کونسل آن انرجی انوائرنمنٹ اینڈ واٹر کی تحقیق میں انکشاف
حیدرآباد۔ ہندستان میں 75 فیصد اضلاع شدید موسم کے اثرات کا شکارہیں جس سے 638 ملین آبادی متاثر ہورہی ہے۔ کونسل آن انرجی ‘ انوائرنمنٹ اینڈ واٹرCEEW کی جانب سے جاری کردہ ایک مطالعاتی رپورٹ میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ ملک کے 75 فیصد اضلاع شدید موسمی تبدیلی اور شدید موسم کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ موسم کی شدت خواہ وہ سیلاب کی شکل میں ہو یا شدید بارش ہویابادل پھٹ پڑنے کے واقعات ہوں یا پھر قحط سالی کا دور ہو ان تمام کے اثرات ملک کے 75 فیصد اضلاع میں دیکھے جا رہے ہیں۔1970 اور 2005 کے دوران 250 ایسے شدید موسم کا سامنا ملک کے ان اضلاع کو کرنا پڑا تھا لیکن صرف سال 2005 کے دوران 310 ایسے شدید موسم کے واقعات دیکھے گئے جو کہ تشویشناک صورتحال کا سبب رہے۔تحقیق کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہندستان میں شدید موسم کا شکار ہونے والے اضلاع میں اکثر و بیشتر تبدیلی دیکھی جاتی رہی ہے اور 40 فیصد تک ایسے اضلاع ریکارڈ کئے گئے ہیں جہاں کبھی شدید بارش اور سیلاب کی صورتحال رہی تو کبھی ان اضلاع کو قحط کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس مطالعہ کے نگران و مصنف مسٹر ابھیناش موہنتی نے اپنے تحقیقی مقالہ میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ملک میں درجہ حرارت میں اضافہ کے معیارات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے بلکہ صرف0.6 ڈگری سیلسیس کی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندستان تیزی سے سیلاب کا مرکز بنتا جا رہاہے اور ہندستان دنیا بھر کے سیلاب اور شدید موسم سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔گذشتہ 50برسوںکے دوران ملک میں سیلاب کی تعداد میں 8گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔50 سال کے دوران ملک میں زمین کھسکنے ‘شدید موسلادھار بارش‘طوفان بادوباراں کے واقعات میں 20 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں سیلاب کے واقعات میں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔ 1970 سے 2004کے دوران ملک بھر میں 3 بڑے سیلاب سالانہ ریکارڈ کئے جاتے رہے ہیں لیکن 2005 کے بعد سے ان کی تعداد 3سے بڑھ کر 11 تک پہنچ چکی ہے اور سالانہ 11سیلاب ریکارڈ کئے جا رہے ہیں۔سال 2019میں ملک بھر میں 16 شدید ترین سیلاب ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں 151 اضلاع متاثر ہوئے تھے۔تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں 97 ملین آبادی شدید موسمی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور 2000کے بعد شہری علاقوں میں سیلاب کی صورتحال دیکھی جانے لگی ہے ۔