ہندوستان نریندر مودی کے ابا جان کا نہیں ہے : کے سی آر

,

   

بیٹیوں کے ساتھ شیطانی سلوک کیا جارہا ہے ، ملک میں لاٹھی چارج ، فائرنگ ، کرفیو ، لوٹ مار کا بول بولا ہے
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے بی جے پی کی ہندو جنونیت کو سخت کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہندوستان وزیراعظم نریندر مودی کے ابا جان کا نہیں ہے ۔ جب سے ملک میں بی جے پی حکومت تشکیل پائی ملک میں لاٹھی ، لوٹ مار ، مذہبی منافرت کا بول بالا ہے ۔ سیاسی مفاد پرستی کیلئے سلیکان ویالی بنگلور کو منافرت پھیلا کر کشمیر وادی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھونگیر رائے گری میں ٹی آر ایس جلسہ سے خطاب میںکے سی آر نے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ پرستی اور وزیراعظم مودی کے غلط فیصلوں سے ملک میں عجیب ماحول پیدا ہوچکا ہے ۔ امریکہ میں 95 فیصد آبادی عیسائیوں کی ہے وہاں مذہبی جنون نہ ہونے سے ہر معاملے میں امریکہ دنیا میں آگے ہے جب کہ سیاسی مفادات کیلئے بی جے پی ملک کو نفرت میں جھونک رہی ہے ۔ بنگلور سلیکان سٹی ہے ۔ مگر کرناٹک میں نفرت کے سوداگروں کی جانب سے ہماری لڑکیوں کے خلاف شیطانی سلوک کیا جارہا ہے ۔ مذہبی منافرت پھیلا کر بنگلور کو کشمیر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہر طرف تشدد رہے گا امن و امان غارت ہوجانے پر ملک میں سرمایہ کاری لگانے کوئی آگے نہیں آئے گا ۔ پرامن ماحول پر ہی سرمایہ داروں کی ہندوستان میں دلچسپی ہوگی ۔ مودی کے 8 سالہ دور حکومت میں ہندوستان تباہ ہوگیا ۔ ملک کے ہر کونے میں لاٹھی چارج ، لوٹ مار ، کرفیو ، فائرنگ ہے ۔ ایسے ماحول میں کون ہندوستان کا رخ کریں گے ۔ ملک کی صورتحال پر وزیر اعظم مودی کو شرم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں شرح روزگار گھٹ گئی ۔ 15 تا 16 لاکھ صنعتیں بند ہوگئی ۔ 140 کروڑ آبادی والے ملک کو مذہبی نفرت کے نذر کرتے ہوئے بچوں کے مستقبل کو برباد کیا جارہا ہے ۔ جدوجہد سے حاصل کردہ علحدہ تلنگانہ کی ترقی ، امن و امان کو دیکھ کر بی جے پی کو جلن ہورہی ہے ۔ زبردستی دباؤ ڈال کر برقی اصلاحات لانے اور زرعی باولیوں کو برقی میٹرس لگانے کہا جارہا ہے ۔ جب تک وہ زندہ ہے ایسا ہونے نہیں دیں گے ۔ بی جے پی کے قائدین بھونک رہے ہیں ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ای ڈی وغیرہ کے نام سے انہیں خوفزدہ کیا جارہا ہے ۔ اگر وہ ڈرتے تو آج علحدہ تلنگانہ قائم نہیں ہوتا ۔ بی جے پی ملک کیلئے منحوس ہے ۔ 8 سال سے ہر شعبہ زوال پذیر ہے ۔ بی جے پی حکومت سے کسی کو فائدہ ہوا اور نہ کسی کا بھلا ہوا ۔ ن