تولیدی صحت کو ترجیح دینا ضروری، ہندو ستان اپنی بڑی آبادی کو فائدہ میں تبدیل کرسکتا ہے
نئی دہلی: ہمارے خاندانی منصوبہ بندی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام تر شراکت داران کا اشتراک اور عہد بندگی ضروری امر ہے ۔ مانع حمل ذرائع اور طریقوں کے دائرے کو وسعت دے کر تولیدی صحت کو ترجیح دینا لازمی امر ہے ۔ مزید برآں، ہندوستان کو اپنی آبادی کی شکل میں جو بالادستی حاصل ہے ،اس کے ذریعہ ہمہ گیر ترقی، شہری کرن اور نقل مکانی کی پیچیدگیوں کا سامنا کیا جانا چاہئے ۔ اپنی پالیسیوں میں ان تمام عناصر کو شامل کرکے اس امر کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ آبادی میں ہونے والی نمو ایک ہمہ گیر مستقبل اور معاشرے کے تمام عناصر کے لیے مبنی بر شمولیت خوشحالی کا ذریعہ بن جائے ۔ان خیالات کا اظہارصحت و خاندانی بہبود اور کیمیاوی اشیاء اور کیمیاوی کھادوں کے مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا نے عالمی یوم آبادی کے دن (11جولائی) کے موقع پریہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔انھوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ اسے عالمی پیمانے پر بھی ماں اور بچوں کی بیماری اور شرح اموات میں تخفیف لانے کے ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے اور اس پروگرام کا ایک اہم عنصر ماں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے جس نے ایک جامع طریقہ سے مجموعی پالیسی مقاصد کو وسعت دی ہے ۔نڈا نے کہا کہ مئی 2024 میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی کانفرنس برائے آبادی ترقیات سے متعلق 30ویں کانفرنس (آئی سی پی ڈی)میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ہندوستان نے نہ صرف یہ کہ آئی سی پی ڈی کے ایجنڈے کو مضبوطی سے قیادت فراہم کی ہے بلکہ بہتر خاندانی بہبود منصوبہ بندی خدمات اور ڈرامائی طور پر اس کے صحت سے متعلقنتائج خصوصاً ماں اور بچوں کی صحت کے معاملے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں نئی پیڑھی کی خواتین نسبتاً چھوٹے خاندانوں کا متبادل اپنا رہی ہیں، اوسطاً صرف دو بچوں پر اکتفا کیا جا رہا ہے ۔ یہ رجحان گذشتہ دہائی ، جس کے دوران نصف سے زائد خواتین (57 فیصد کے بقدر ) کی تولیدی عمر (15 سے 49 برس) نے سرگرمی کے ساتھ جدید مانع حمل ذرائع اپنائے تھے ، کے مقابلے میں ایک اہم تبدیلی کا مظہر ہے ۔ مانع حمل ذرائع کا عام استعمال بھارت کی خاندانی منصوبہ بندی کی کامیابی کو اجاگر کرتا ہے ۔ تاہم خاندانی منصوبہ بندی محض مانع حمل تک محدود نہیں ہے ، یہ صحت اور خواتین کی خیر و عافیت، خاندانوں اور برادریوں سے بھی مربوط ہے ۔ یہ خواتین، لڑکیوں اور نوجوانوں کو حقوق اور متبادلوں کی فراہمی کے ذریعہ بااختیار بناتی ہے ۔ 369 ملین کے بقدر نوجوان افراد جن کی عمر 10 سے 24 برس کے درمیان ہے ، بھارت آبادی کے لحاظ سے ایک تغیراتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ، اور ایک وکست بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کمربستہ ہے ۔