ہرارے 3 فروری (پی ٹی آئی) ٹورنمنٹ میں اب تک ناقابلِ شکست رہنے والی پْراعتماد ہندوستانی ٹیم چہارشنبہ کو ہرارے میں آئی سی سی انڈر19 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں افغانستان کے خلاف واضح پسندیدہ ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گی۔ ہندوستان اس ایونٹ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے، جس نے اب تک پانچ مرتبہ (2000، 2008، 2012، 2018، 2022) خطاب اپنے نام کیا ہے، جبکہ آسٹریلیا چار مرتبہ ٹرافی جیت کر دوسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان کی ٹیم ریکارڈ چھٹاخطاب حاصل کرنے کی جانب ایک اور قدم بڑھانے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ ہندوستان نے ٹورنمنٹ میں شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے تمام پانچوں میچ آرام سے جیتے ہیں، جن میں سوپر سکس مرحلے میں روایتی حریف پاکستان کے خلاف 58 رنزکی فتح بھی شامل ہے۔ افغانستان نے بھی ٹورنمنٹ میں مجموعی طور پر اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور پانچ میں سے چار میچ جیتے ہیں۔ اسے واحد شکست سری لنکا کے خلاف چار وکٹوں سے ہوئی۔ موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے ناک آؤٹ میچ میں ہندوستان کو افغانستان پر برتری حاصل دکھائی دیتی ہے۔ وکٹ کیپر ابھگیان کندو بیٹ سے ہندوستان کے نمایاں کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے پانچ میچوں میں دو نصف سنچریوں کی مدد سے اب تک 199 رنز اسکورکیے ہیں۔آل راؤنڈر وہان ملہوترا (پانچ میچوں میں 172 رنز) دوسرے اہم بیٹر ہیں۔ انہوں نے گروپ مرحلے میں زمبابوے کے خلاف واحد سنچری109 ناٹ آؤٹ اسکورکی تھی۔ کپتان آیوش مہاترے نے گیند کے ساتھ مستقل مزاجی دکھاتے ہوئے اپنی آف بریک بولنگ سے پانچ میچوں میں چھ وکٹیں حاصل کی ہیں، تاہم بیٹنگ کے شعبے میں ان کی کارکردگی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ وہ پانچ میچوں میں صرف 99 رنز بنا سکے، جن میں ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور53 رہا۔اوپنر ایرون جارج کی فارم ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ انہوں نے تین اننگز میں محض 46 رنز بنائے ہیں۔ہندوستانی بولنگ کی قیادت دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولرہنیل پٹیل اور آر ایس امبرش کر رہے ہیں۔ دونوں فاسٹ بولرز نے شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے بالترتیب 11، 11 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کے ساتھ بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس اسپنر پٹیل سے بھی مؤثر تعاون کی امید ہوگی، جنہوں نے پانچ میچوں میں آٹھ وکٹیں حاصل کر کے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ مہاترے اور ملہوترا بھی آف بریک بولنگ کے ذریعہ ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرنے کے خواہاں ہوں گے۔ ملہوترا نے جہاں ٹورنمنٹ میں اب تک پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں، وہیں ہندوستان کی واحد سنچری بھی ان کے نام ہے۔