ہندوستان کا آج ممبئی میں انگلینڈسے سیمی فائنل مقابلہ

   

ممبئی، 4 مارچ (آئی اے این ایس) ہندوستان اور انگلینڈ دونوں دو، دو مرتبہ ٹی20 ورلڈکپ جیت چکے ہیں اور سیمی فائنل میں ان کا آمنا سامنا بھی دو مرتبہ ہو چکا ہے، جس میں ہر ٹیم ایک، ایک بارکامیاب رہی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس ٹیم نے سیمی فائنل جیتا، اسی نے اْس سال فائنل بھی جیت کر خطاب اپنے نام کیا۔ عالمی کرکٹ کی یہ دو بڑی طاقتیں جمعرات کو ممبئی کے تاریخی وانکھیڈے اسٹیڈیم میں مسلسل تیسرے ایڈیشن میں اپنا تیسرا سیمی فائنل کھیلنے جا رہی ہیں۔ دونوں ٹیموں کی نظریں ایک اور ریکارڈ پر مرکوز ہیں آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈکپ تین بار جیتنے والی پہلی ٹیم بننا۔ اس وقت ہندوستان اور انگلینڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز بھی دو، دو مرتبہ خطاب جیت چکا ہے۔ 2022 کے ایڈیشن کے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے ہندوستان کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور بعد ازاں فائنل میں پاکستان کو پانچ وکٹوں سے ہراکر دوسرا خطاب جیتا تھا۔ 2024 میں کہانی الٹ گئی، جب ہندوستان نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی اور پھر سنسنی خیز فائنل میں جنوبی افریقہ کو ہراکر اپنا دوسرا خطاب حاصل کیا۔ اب تیسری بار قسمت کس کا ساتھ دے گی؟ اعداد و شمار اور حالات ہندوستان کے حق میں دکھائی دیتے ہیں، تاہم انگلینڈ نے اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے مضبوط کارکردگی اور حوصلہ دکھایا ہے، اس لیے کسی کو بھی کمزور نہیں سمجھا جا سکتا۔ ٹی 20 فارمیٹ میں دونوں ٹیمیں اب تک 29 مرتبہ آمنے سامنے آچکی ہیں، جن میں ہندوستان نے17 اور انگلینڈ نے 12 میچز جیتے ہیں۔ ہندوستان دو مزید اعزازات پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے ٹی 20 ورلڈ کپ کا کامیاب دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بننا اور بطور میزبان ٹرافی جیتنے والی پہلی ٹیم بننا۔ دونوں ٹیموں کا سیمی فائنل تک کا سفر مختلف رہا۔ انگلینڈ سوپر8 مرحلے کے گروپ 2 میں مسلسل پانچ فتوحات کے ساتھ ناقابلِ شکست رہتے ہوئے سب سے پہلے سیمی فائنل میں پہنچا۔ ہندوستان کو سوپر8 مرحلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف شکست ہوئی، تاہم ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصلہ کن میچ میں آخری لمحات کی فتح کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ لیگ مرحلے میں صورتحال اس کے برعکس تھی۔ ہندوستان نے گروپ اے میں تمام میچ جیت کر پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ انگلینڈکیریبین ٹیم سے ہارکر پول سی میں دوسرے نمبر پر رہا۔ وانکھیڈے میں ہونے والے ناک آؤٹ سیمی فائنل میں ریکارڈز اور اعداد و شمار دونوں ٹیموں کے لیے اضافی حوصلہ فراہم کریں گے۔ میزبان کو اپنے شائقین کی بھرپور حمایت کا بھی سہارا ہوگا۔ اسی میدان پر 2011 کے ونڈے ورلڈ کپ میں مہندر سنگھ دھونی کا فیصلہ کن چھکا اور سچن ٹنڈولکر کو ساتھی کھلاڑیوں کے کندھوں پر اٹھائے جانے کے مناظر آج بھی یادہے۔