ہندوستان کا آج آسٹریلیا سے مقابلہ ، کامیابی ضروری

   

آکلینڈ ۔ یہ کہنا درست ہے کہ آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستان کی مہم ان کے منصوبے کے مطابق نہیں چل سکی ہے۔ چار میچوں میں انہوں نے دو فتوحات حاصل کئی ہیں اور اتنے ہی مقابلے ہارے ہیں۔ چاروں میچوں میں، ان کی بیٹنگ بہت اونچی اور نیچی انتہاؤں کے درمیان گھوم رہی ہے۔ ان کی متضاد مہم کے درمیان ہندوستان اب ہفتہ کو ایڈن پارک میں چھ بار ورلڈ کپ جیتنے والے آسٹریلیا کے خلاف مقابلہ کرے گا جو ٹورنمنٹ میں مسلسل ناقابل شکست ہے اور ہندوستان کو اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ سیمی فائنلز میں اپنی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ڈربی میں 2017 ایڈیشن کے سیمی فائنل کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب دونوں ٹیمیں 50 اوور کے ورلڈ کپ میچ میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں ہرمن پریت کور کے 171 نے آسٹریلیا کے لیے ناک آؤٹ پنچ کا کام کیا۔آسٹریلیا کے خلاف کامیابی ہندوستان کی مہم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے راستے پر گامزن کر دے گی کیونکہ اس کے بعد اس کا مقابلہ بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ سے ہوگا۔ ورلڈ کپ کے رن اپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو طرفہ سیریز میں ہندوستان کی بیٹنگ ان کی بولنگ سے زیادہ مضبوط نظر آئی لیکن میگا ایونٹ میں بولنگ مضبوط دکھائی دے رہی ہے جبکہ بیٹنگ کمزور روابط کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ فی الحال متھالی راج کی قیادت والی ٹیم کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ٹاپ آرڈر اور لوور کی بیٹنگ اور وکٹیںگنوانے سے بچنا ہوگا، آسٹریلیا کے بولنگ شعبہ نے بالترتیب 128 اور 131 پر نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کر دیا ہے۔علاوہ ازیں 114/6، 95/5، 78/3 اور 86/7 کا اسکور یہ بتاتا ہے کہ فتح اور شکست دونوں میں ہندوستان اس پریشان کن مسئلے کی وجہ سے نقصان میں ہے، جس کا اعتراف سمرتی مندھانا نے اپنی میچ سے پہلے ہی کیا۔بائیں ہاتھ سے کھیلنے والی مندھانا 216 رنز کے ساتھ ٹورنمنٹ میں اب تک ہندوستان کی سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی ہیں ، سوچتی ہیں کہ اسٹیچنگ پارٹنرشپ کے مسئلے کو حل کرنے میں کلید ثابت ہوگی۔یقینی طور پر ہم پے در پے وکٹیں گنواتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہم ایک بیٹنگ یونٹ کے طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔