وینکٹ پارسا
امریکہ میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے پرانئے منڈا ڈابو ہیلتھ کیر سلیوشن پر کام کررہے ہیں ۔ حال ہی میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایشیاء بحرالکاہل کے سب سے بڑے Hackathon میں جج کی حیثیت سے شرکت کی اور ان کا پُرزور انداز میں کہنا تھا کہ ہندوستان میں مصنوعی ذہانت صرف کوڈنگ ایپس تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ عصری اے آئی حل یا اے آئی سلیوشن تیار کررہی ہے جن میں خود کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے لیکر اخلاقی انضمام شامل ہے ۔
HACK CBS 8.0 کو ہندوستان میں طلبہ کے زیر اہتمام چلائے جانے والا Hackathon اور ایشیاء بحرالکاہل کا پہلا بڑاہیکنگ (MLH) رکن ایونٹ قرار دیا گیا تو عالم ٹکنالوجی نوجوان ہندوستانی کوڈرز کی جدت پر مبنی پیشرفت سے گونج اٹھی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس ہیکاتھون کے ججس کیلئے 140 شخصیتوں نے درخواستیں دیں ، ان میں سے جن 14 افراد کو بحیثیت ججس منتخب کیا گیا ان میں پرانئے منڈا ڈابو بھی شامل تھے ، وہ امریکہ میں مقیم سافٹ ویر انجنیئر ہیں ان کے بارے میں آپ کو بتادیں کہ وہ مصنوعی ذہانت اور Full Stack ڈیولپمنٹ میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں ۔ اپنے موجودہ رول میں وہ ہیلتھ کیر سلیوشن تیار کررہے ہیں ۔ ہندوستان اور امریکہ میں ہیکاتھونس جیتنے اور نمایاں مقام حاصل کرنے سے لیکر ملک کے سرفہرست اور مشہور ایونٹ میں جج بننے تک پرانئے منڈا پاڈو کا سفری عالمی سطح پر ہندوستانیوں کے عصری ٹکنالوجی میں مہارت کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ یو ڈبلیو ایمس گوکل ڈیولپر اسٹوڈنٹ کلب کے بانی کی حیثیت سے انہیں سال 2022 میں گوگل ہیڈ کوارٹر میں مدعو کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی طلبہ کل یا مستقبل کے مصنوعی ذہانت یا اے آئی سلیوشن کا ڈی این اے ہے اور HACK CBS جیسے پروگرامس یہ امر ثابت کرتے ہیں کہ وہ صرف شرکاء میں شامل نہیں بلکہ لیڈرس اور قائد ہیں ۔ واضح رہے کہ پرانئے منڈا ڈایو نے یونیورسٹی آف وسکوئسن ۔ ملوادکی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرس کیا ہے اور سب سے اچھی بات یہ رہی کہ انہیں وہاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپس دی گئیں جن میں چانسلرس ایوارڈس اور Teaching Assistant Ship بھی شامل ہے ۔ مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں انہوں نے غیر معمولی اختراعی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا ہے اور اسی شعبہ میں وہ شاندار ریکارڈ کے حامل ہیں ۔ منڈا ڈایو نے اس ایونٹ یا پروگرام سے ابھرنے والے آرٹیفیشل انٹلیجنس کی پختگی پر خصوصی ویژن شیر کیا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کچھ یوں کہا کہ ’ HACKCBS‘ بصیرت و بصارت کے دریچے کھولنے والا تجربہ ہے ، یہ طلبہ صرف کوڈنگ ایپس تیار نہیں کررہے ہیں بلکہ ایسے عصری اے آئی حل تیار کررہے ہیں جو حقیقی دنیا میں استعمال کیلئے تیار ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ جیسے جیسے آرٹیفیشل ٹکنالوجی پختہ ہورہی ہیں ’ ہیک سی بی ایس 8.0‘ گلوبل ٹیک میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثر کی علامت ہے ۔ یہ پروگرام 8-9 نومبر 2025 میں دارالحکومت دہلی میں واقع شہید سکھدیو کالج آف بزنس اسٹڈیز میں منعقد ہوا ، جہاں 700 سے زائد کالجس 440 شہروں اور تقریباً 25 ملکوں سے 4400 سے زائد شرکاء نے ( آف لائن) شرکت کی جو یقیناً ایک بہت بڑی بات ہے ۔ اس ایونٹ کے جو عنوانات تھے ان میں مصنوعی ذہانت ، عام مصنوعی ذہانت ، فن ٹیک ، ہیلت ٹیک اور Web 3 شامل ہیں اور یہ عنوانات یا موضوعات شرکاء کیلئے بڑے دلچسپ تھے اور ان ہی موضوعات کے تحت شرکاء نے دنیا کے حقیقی مسائل پر کام کیا اور 2لاکھ 20 ہزار ڈالر سے زائد کے انعامات کیلئے مقابلہ کیا جن میں بہترین جنرل اے آئی ، استعمال اور بہترین بلاک چین ، اختراع کے خصوصی ایوارڈس بھی شامل تھے ۔ منڈا ڈایو کی مہارت ان کے اپنے عصری اے آئی کام سے پیدا ہوتی ہے ، جب وہ ڈگری کالج میں زیر تعلیم تھے گیتم یونیورسٹی وشاکھاپٹم میں انہوں نے 2019 کے SWISH مقابلہ میں پہلا مقام حاصل کیا ۔ وہ بیکاتھون، گیتم یونیورسٹی نے جاپان کے DENSO GROUP کے تعاون و اشتراک سے Crop Management اپلیکیشن کیلئے منعقد کیا تھا جس کے بارے میں مشہور اخبارات میں رپورٹس شائع ہوئیں ، ان کی مشترکہ تصنیف کے ایک باب میں Tensor Flow اور Open CV کے ذریعہ اے آئی Companions پر تحقیق کی گئی اور اس تحقیق یا ریسرچ کو ان کی یونیورسٹی میں بہترین مقالہ قرار دیاگیا جس کے نتیجہ میں 2018 میں منعقدہ JNANA BHERI ایونٹ میں ٹیم کی جانب سے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کی موجودگی میں خصوصی پریزنٹیشن کے ذریعہ تحقیق کے ثمرات سے واقف کروایا گیا ۔