بنگلورو،18 مارچ (یو این آئی) چیف کوچ شورڈ میرین نے آج آئندہ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ بیلجیئم اور نیدرلینڈز2026 کے پول ڈی کو انتہائی سخت اور متوازن قراردیا ہے ۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کو انگلینڈ، چین اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ایک ہی پول میں رکھا گیا۔ہندوستانی ٹیم، جس نے حال ہی میں اس بڑے ٹورنمنٹ کے لیے کوالیفائی کیا ہے ، اسے اگست میں ہونے والے گروپ اسٹیج میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی درجہ بندیمیں چوتھے نمبر پر موجود چین اس پول میں سب سے آگے ہے ، جس کے بعد انگلینڈ چھٹے مقام پر ہے ، جبکہ ہندوستان اور جنوبی افریقہ بالترتیب نویں اور انیسویں مقام پر ہیں۔مخالف ٹیموں کی مختلف طاقتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کوچ شورڈ میرین نے کہا کہ اس گروپ میں تجربے اور غیر متوقع نتائج کا امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا، یہ ایک بہت ہی سخت اور متوازن پول ہے ۔ انگلینڈ اور چین جیسی ٹیمیں الگ طرزِکھیل اور وسیع تجربہ رکھتی ہیں، جبکہ جنوبی افریقہ ہمیشہ غیر متوقع ثابت ہوتی ہے اور اپنے دن کسی بھی ٹیم کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ۔تاہم کوچ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی توجہ اپنے کھیل کے اندازکو درست طریقے سے نافذکرنے پر ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا ہمارے لیے یہ صرف ڈراکی بات نہیں ہے ، بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم میدان میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ورلڈکپ میں ہر میچ میں آپ کو اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہوتا ہے ۔ ہم تمام حریف ٹیموں کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہماری توجہ ہمت کے ساتھ اپنی ہاکی کھیلنے پرمرکوز ہے ۔ہندوستان ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026کوالیفائرز حیدرآباد میں رنر اپ رہا تھا، جہاں اسے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف شکست ہوئی تھی۔ ٹیم نے اپنی جارحانہ کھیل سے سب کو متاثرکیا اور 11گول کے ساتھ دوسری سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بنی؛ ان 11میں سے 6 گول پنالٹی کارنر کے ذریعے کیے گئے ۔کوالیفائرز پر تبصرہ کرتے ہوئے میرین نے مواقع کوگول میں بدلنے اور دفاعی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کہا ہم نے آگے بڑھ کرکھیلنے میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے ، لیکن اب توجہ اس بات پر ہے کہ چاہے فیلڈ پلے ہو یا پنالٹی کارنر، ہم گیند کو جال تک پہنچائیں۔ شورڈ میرین جنہوں نے ٹوکیو 2020 اولمپکس میں ہندوستان کو تاریخی چوتھا مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، رواں سال جنوری میں دوبارہ چیف کوچ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا، کوالیفائی کرنا پہلا قدم تھا، ہمارا مقصد بہت بڑا ہے ۔ ورلڈکپ سے قبل ٹیم امریکہ اور ارجنٹیناکا دورہ کرے گی، نیوزی لینڈ میں نیشنزکپ میں حصہ لے گی اور جرمنی و نیدرلینڈز میں پریکٹس میچ کھیلے گی۔