بحفاظت روانگی کے لیے ہندوستانی حکومت کی مساعی
حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) مغربی ایشیا میں جنگ کی صورتحال کے نتیجہ میں ہندوستان میں گیاس اور تیل کے بحران سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے ہندوستان کے دو بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں گیاس کی قلت پر قابو پایا جاسکے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان کی 22 بحری جہاز خلیج فارس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کے منتظر ہیں جن میں 1.67 ملین ٹن خام تیل ، 3.2 لاکھ ٹن ایل پی جی اور 2 لاکھ ٹن ایل این جی موجود ہے۔ ہندوستان کا تقریباً 1.7 ملین ٹن تیل اور گیاس آبنائی ہرمز میں پھنس چکا ہے۔ اسپیشل سکریٹری مرکزی وزارت شپنگ راجیش کمار سنہا نے بتایا کہ ہندوستانی پرچم کے ساتھ 28 بحری جہاز جنگ کے آغاز کے وقت آبنائے ہرمز کے قریب تھے۔ ان میں سے 24 آبنائے ہرمز کے مغربی حصہ میں جبکہ 4 مشرقی جانب ہیں۔ گزشتہ ہفتہ دونوں جانب سے دو بحری جہاز بحفاظت ہندوستان کے لئے روانہ ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کے تمام 22 بحری جہاز محفوظ ہیں۔ آبنائے ہرمز میں موجود 22 بحری جہازوں میں 6 ایل پی جی گیاس پر مشتمل ہیں جبکہ ایک ایل این جی ٹینکر ہے۔ 4 میں خام تیل کے ٹینکرس پائے جاتے ہیں۔ ایک بحری جہاز کیمیکل پراڈکٹس کو منتقل کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ سے متاثرہ علاقہ سے ہندوستانی بحری جہازوں کی بحفاظت منتقلی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس کے نتیجہ میں کئی ممالک میں تیل اور گیاس کا بحران پیدا ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے موجودہ صورتحال میں ہندوستانی عوام کی تائید کے جواب میں خیرسگالی کے طور پر تیل اور گیاس کے ہندوستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے ۔1