چنئی، 25 فروری (پی ٹی آئی ) ٹاپ آرڈر کی ناکامی اور بڑی شکست کے بعد دباؤ کا شکار دفاعی چمپئن ہندوستان کو جمعرات کے روز یہاں ٹی20 ورلڈ کپ کے اپنے دوسرے سوپر 8 میچ میں غیر متوقع مظاہرے کرنے والے حریف زمبابوے کے خلاف کامیابی کے لیے غیر معمولی حوصلہ اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف 76 رنز کی شکست کے بعد ہندوستان کا نیٹ رن ریٹ (-3.80) بری طرح متاثر ہوا ہے، اس لیے آئی سی سی کے اس بڑے ٹورنمنٹ میں بقا برقرار رکھنے کے لیے یہ میچ بڑے فرق سے جیتنا نہایت ضروری ہے۔تاہم اس کے لیے ہندوستان کو اوپننگ اور نمبر تین کی پوزیشن سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے۔اس ورلڈ کپ میں آنے سے قبل دفاعی چمپئن نے اوپننگ جوڑی ایشان کشن اور ابھیشیک شرما کی شاندار کارکردگی کی بدولت گھریلو میدان پر جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف دو طرفہ سیریز میں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔لیکن معدے کے انفیکشن کے بعد ابھیشیک کی بیٹنگ کی چمک ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ سست پچوں اور آف اسپنرز کی مؤثر بولنگ، جو گیند کو ان کے پسندیدہ شاٹ کے دائرے سے دور لے جاتی ہے، نے بائیں ہاتھ کے بیٹر کی جارحانہ صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ وہ یقیناً اپنی موجودہ کارکردگی سے بہتر کھلاڑی ہیں چار میچوں میں صرف 15 رنز، اوسط 3.75 اور اسٹرائیک ریٹ 75 اس کا ثبوت ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے فطری جارحانہ انداز کو ایک طرف رکھ کر ٹیم کے لیے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کچھ قیمتی رنز بنا سکتے ہیں؟ کھیل خوبصورت نہ بھی لگے، بعض اوقات جیت کے لیے سخت اور غیر دلکش بیٹنگ بھی ضروری ہوتی ہے۔گزشتہ شب پالی کیلے میں انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے بھی پچ کے مطابق خود کو ڈھال کر میچ وننگ سنچری اسکور کی، جو ابھیشیک کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ اسپن کھیلنا بروک کی کمزوری سمجھا جاتا تھا، لیکن یارکشائر سے تعلق رکھنے والے اس بیٹر نے پاکستان کے اسپن اٹیک کے خلاف دفاع اور جارحیت کے درمیان بہترین توازن قائم کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلی۔ادھر تلک ورما کو بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، اگرچہ نوعیت مختلف ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابھیشیک کی خراب فارم کے باعث تلک کو ایشان کشن کا زیادہ ساتھ دینا پڑا، جو ٹاپ آرڈر کی ناکامیوں کے باوجود 193 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے ہیں۔تاہم پاور پلے میں کھیلنے والے بلے باز کے لیے 118 کا اسٹرائیک ریٹ جدید ٹی ٹوئنٹی معیار کے مطابق کم سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کا کیریئر اسٹرائیک ریٹ تقریباً 141 ہے۔اسی طرح سوریا کمار یادیو نے 180 رنز تو بنائے ہیں، مگر 127 کے اسٹرائیک ریٹ سے، جو ان کے کیریئر ٹی ٹوئنٹی اسٹرائیک ریٹ 161 سے کافی کم ہے۔ اس صورتحال میں ایشان کشن پر پوری ذمہ داری آ گئی ہے کہ وہ تنہا اننگز کو سنبھالیں۔