ہندوستان کو آج پہلے ونڈے میں نیوزی لینڈ سے سخت چیلنج کا سامنا رہے گا

   

دونوں ٹیمیں کارکردگی میں شاندار تسلسل کیساتھ مدمقابل ہوں گی۔ ویراٹ کوہلی توجہ کا مرکز ۔ شبھ من گل، شریاس ایئر، محمد سراج کی واپسی

وڈودرا، 10جنوری (یو این آئی) ہندوستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف گھریلو ماحول میں کھیلنا خاص طور پر ونڈے فارمیٹ میں ایک جانا پہچانا احساس ہے ۔ اتوار کے روز کوٹمبی اسٹیڈیم میں دوپہر 1:30بجے شروع ہونے والا پہلا ونڈے ہندوستان کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کا موقع دے گا کہ وہ اپنی سرزمین پر اتنی مضبوط طاقت کیوں رہا ہے ۔ نیوزی لینڈ کیلئے ہندوستان کا پچھلا ونڈے ٹور زیادہ یادگار نہیں رہا۔ 3-0کی وائٹ واش خود ہی سب کچھ بیان کر دیتی ہے اور یہی رجحان جاری رہا ہے جس میں ہندوستان نے دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے گزشتہ پانچ ونڈے میچوں میں سے ہر ایک جیتا ہے ۔ اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے اور کرکٹ میں اکثر یہ پہلی گیند پھینکے جانے سے پہلے ہی کہانی سنا دیتے ہیں۔ ہندوستان اس سیریز میں شاندار ہوم ریکارڈ کے ساتھ داخل ہو رہا ہے ۔ حالیہ چار گھریلو ونڈے سیریز فتوحات چمک دمک کے بجائے مستقل مزاجی کی عکاس ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان نے طاقت اور میچورٹی دونوں دکھائی۔ دو بار 300سے زائد اسکور کیا اور پھر آخری میچ میں نو وکٹیں باقی رہتے ہوئے اطمینان کے ساتھ 271 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ اس طرح کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ بیٹنگ یونٹ کو معلوم ہے کہ کب حملہ کرنا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم کب پیچھے ہٹنا ہے ۔ ویراٹ کوہلی ایک بار پھر مضبوطی سے ڈٹے رہے ۔ اس سیریز میں ان کے 302 رنز جن میں دو سنچریاں اور ایک ناٹ آؤٹ نصف سنچری شامل تھی، اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کلاس جب بھوک کے ساتھ مل جائے تو کتنی خطرناک ہو سکتی ہے ۔ کوہلی اس مرحلے میں دکھائی دیتے ہیں جہاں دماغ کے فیصلے سے پہلے ہی بیاٹ حرکت میں آ جاتا ہے ۔ ہندوستان کو ونڈے وائس کیپٹن شریاس ایئر کی واپسی سے بھی تقویت ملی ہے جو چوٹ سے صحت یاب ہو کر واپس آئے ہیں۔ ان کی موجودگی مڈل آرڈر کو مضبوط بناتی ہے جو ابتدائی وکٹیں گرنے کی صورت میں بے حد قیمتی ثابت ہوتی ہے ۔ محمد سراج کی واپسی سے پیس اٹیک مضبوط ہوا ہے جبکہ شبھمن گل کی شمولیت سے ٹاپ اور مڈل آرڈر میں نفاست اور اعتماد دونوں حاصل ہوئے ہیں۔ تاہم، نیوزی لینڈ محض تعداد پوری کرنے نہیں آیا۔ 2025 میں ہندوستان سے آئی سی سی چمپئنز ٹرافی فائنل میں شکست کے بعد سے انہوں نے خاموشی سے رفتار حاصل کی ہے اور اپنے گزشتہ 9 ونڈے میچوں میں ناقابل شکست رہے ہیں۔ پاکستان، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل تین 3-0 سیریز فتوحات نے اس دورے سے قبل انہیں اعتماد ضرور دیا ہے چاہے وہ مکمل یقین نہ بھی ہو۔ ڈیوان کانوے کی فارم مہمان ٹیم کا حوصلہ بڑھائے گی۔ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹنگ چارٹ میں سرفہرست رہے جبکہ کائل جیمیسن کے اس سیریز میں سات وکٹوں نے یہ دکھایا کہ جب کنڈیشنز زیادہ مددگار نہ ہوں تب بھی وہ باؤنس اور موومنٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کئی نئے چہروں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ نیوزی لینڈ مستقبل کی سوچ رکھتا ہے اور صرف مانوس ناموں پر انحصار کرنے کے بجائے گہرائی بنا رہا ہے ۔ ایس اے 20 کمٹمنٹس کے باعث کین ولیمسن کی عدم موجودگی میں مائیکل بریسویل نے کپتانی سنبھالی اور انہوں نے یہ کردار پرسکون اور مؤثر انداز میں نبھایا ہے ۔ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے اسکواڈ کچھ اس طرح ہیں: