ہندوستان کو بنگلورو ٹسٹ میں 8 وکٹوں سے شکست

   

بنگلورو۔ نیوزی لینڈ نے جسپریت بمراہ کے خطرناک بولنگ کا دلیری سے سامنا کرتے ہوئے، آخری دن ایک کرشماتی انداز میں ہندوستان کی کوششوں کو سبوتاج کیا۔ پہلا ٹسٹ آٹھ وکٹوں سے جیتنے کے بعد نیوزی لینڈ نے 36 سال بعد ہندوستانی سرزمین پر روایتی فارمیٹ میں کامیابی کا مزہ چکھا۔ آخری بار نیوزی لینڈ نے ہندوستان کو 1988 میں جان رائٹ کی کپتانی میں وانکھیڑے اسٹیڈیم میں 136 رنز سے شکست دی تھی۔ کامیابیکے لیے درکار 107 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے ابتدائی دھکے کے بعد کوئی غفلت نہیں دکھائی۔ ول ینگ 48 اور راچن رویندرا 39 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 75 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی سبقت دلوادی ۔ پہلی اننگز میں 46 رنز پر آؤٹ ہونے کے باوجود ہندوستان جس طرح سے میچ میں واپس آیا وہ قابل ستائش ہے۔ اب انہیں اس شکست کو بھول کر پونے میں 24 اکتوبر کو شروع ہونے والے دوسرے ٹسٹ میں اپنا فطری کھیل دکھانا ہوگا۔ گلے کی تکلیف سے صحت یاب ہونے کے بعد دوسرے ٹسٹ میں شبمن گل کی واپسی یقینی معلوم ہوتی ہے لیکن پہلے ٹسٹ کی دوسری اننگز میں 150 رنز بنانے والے سرفراز خان کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ آیا اسے تین فاسٹ بولروں کو میدان میں لانا ہے یا صرف تین اسپنرزکو برقرار رکھنا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کارگر ثابت نہیں ہوا۔ آج میچ آخری دن گیلے میدان کی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اور نئی گیند سے بمراہ نے 29 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ ٹام لیتھم اکاؤنٹ کھولے بغیر پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہو گئے۔ امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا جس پر انہوں نے امپائر کے فیصلے کے خلاف موجود سہولت استعمال کی لیکن ڈی آر ایس میں بھی ان کی برطرفی کی تصدیق کی گئی۔ ڈیون کونوے بھی بمراہ کے سامنے بے بس نظر آئے اور17 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہوئے ۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا اسکور دو وکٹوں پر 35 رنز تھا لیکن اس کے بعد ینگ اور رویندر محتاط انداز میں کھیلے۔آسمان صاف ہونے کے بعد بیٹنگ میں کوئی مسئلہ نہیں تھا اور دونوں نے ناقص گیندوں پر باؤنڈریز لگاتے ہوئے کامیابی کو آسان کردیا۔ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے رویندر نے بھی کلدیپ کو چھکا لگایا۔