راجکوٹ۔ناقص فام سے پریشان کپتان رشبھ پنت کو جمعہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف کرو یا مرو صورتحال کے چوتھے ٹی20 میچ میں درمیانی اووروں میں دباؤ سے بچنے کے لیے اچھی اننگزکھیلنی ہوگی۔پنت کی خراب فارم کے علاوہ وشاکھاپٹنم میں دوسرے میچ میں ہندوستان نے اپنی غلطیوں پر قابو پاتے ہوئے ایک بڑی جیت درج کی۔ اب انہیں پانچ میچوں کی اس سیریز میں باقی رہنے کے لیے مزید ایک جیت درکار ہے تاکہ سیریز کا فیصلہ پانچویں میچ میں ہو سکے۔ پنت اتنے شانداربیٹر ہیں کہ جب کسی بھی فارمیٹ میں ان پر تنقید ہوتی ہے تو وہ شاندار اننگز کھیل کر سب کے منہ بندکردیتے ہیں اور یہ چوتھے میچ میں ان کا موقع ہے۔جنوبی افریقی بولروں نے انہیں اپنے بیٹ کو قابو میں رکھ کر اپنی مرضی کے شاٹس کھیلنے کی اجازت نہیں دی اور وہ اکثر باؤنڈری پرکیچ ہورہے ہیں۔ انہیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا۔روتوراج گائیکواڑ اور ایشان کشن نے آخری میچ میں ہندوستان کو اچھی شروعات دلائی۔ ایشان نے ایک پختہ بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ محفوظ اوپنر کے طور پر اپنے دعوے کو مستحکم کیا ہے اور اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے سلیکٹرز کی توجہ ضرور حاصل کی ہوگی۔گائیکواڑ اور ایشان باقی دو میچوں میں بھی اس رفتار کو برقرار رکھنا چاہیں گے۔دونوں اس کے بعد باقاعدہ اوپنرزکی واپسی سے قبل آئرلینڈ کے خلاف دو میچ کھیلیں گے۔شارٹ گیند کا سامنا کرنے سے قاصر شریاس آئر اب تک کوئی کمال نہیں دکھا سکے ہیں اور تیسرے نمبر پر ان سے اچھی اننگز کی توقع ہے۔وشاکھاپٹنم میں اچھی شروعات کے بعد ہندوستانی ٹیم کو درمیانی اوورز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آخر میں ہاردک پانڈیا نے21 گیندوں میں ناقابل شکست 31 رنز بنا کر ٹیم کو180 رنز کے قریب تک پہنچایا تھا۔ اب مڈل آرڈر بیٹرس کو ذمہ داری کے ساتھ کھیلنا ہو گا۔آخری میچ میں یوزویندر چہل اور اکشر پٹیل جیسے اسپنروں نے درمیانی اوورز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جہاں اکشر نے کفایتی بولنگ کی، وہیں چہل وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ فاسٹ بولروں میں بھونیشور کمار مسلسل اچھی بولنگکررہے ہیں۔ اویس خان کفایتی ثابتہوئے ہیں لیکن وکٹیں نہ لے سکے۔ ہرشل پٹیل نے اپنے تنوع کے زور پر چار وکٹیں حاصل کیں۔دوسری جانب جنوبی افریقہ پچھلی شکست کو بھلا کر فتح کی راہ پر واپس آنا چاہے گا۔ سیریز میں 2۔ 1 سے موجود جنوبی افریقی ٹیم چاہے گی کہ سیریز کا فیصلہ اس میچ میں ہو جائے۔جنوبی افریقی کیمپ اسٹاربیٹرکوئنٹن ڈی کاک کے لیے کلائی کی زخم سے مکمل صحت یابی کے لیے دعا کرے گا۔ تیسرے میچ میں جنوبی افریقہ کے اسپنرز تبریز شمسی اورکیشو مہاراج کافی مہنگے ثابت ہوئے۔ فاسٹ بولر کگیسو ربادا نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن دوسرے سرے سے مدد حاصل نہ کر سکے اور فیلڈنگ بھی ناقص رہی۔