ہندوستان کو فرقہ پرستی اور ہجومی تشدد سے نجات دلانے پر زور

   

Ferty9 Clinic

گول میز کانفرنس ،مختلف زعمائے ملت و دیگر معززین ابنائے وطن کا خطاب
حیدرآباد۔16؍ جولائی۔ ( راست ) ۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہجومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کی ہلاکت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مختلف زعمائے ملت و دیگرمعززین ابنائے وطن نے 14؍ جولائی کو میڈیا پلس آڈیٹوریم، گن فائونڈری میں ایس سی۔ ایس ٹی۔ بی سی۔ مسلم فرنٹ کی جانب سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کیا، صدارت جناب ثناء اللہ خان نے کی۔اس موقع پر جسٹس چندر کمار نے ملک کی کئی ریاستوں میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے ہجومی تشدد کے ذریعہ بے قصور مسلمانوں اور دلتوں کو ہلاک کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور ریاست کے مسلمانوں، سیکولر سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کے قائدین کی تائید سے اس ہجومی تشدد کے خلاف ملک گیر سطح پر مہم چلانا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ جناب حامد محمد خان ، جناب شفیق الزماں آئی اے ایس، جسٹس ای اسماعیل، جناب ضیاء الدین نیئر تعمیر ملت، میجر قادری ، مولانا طارق قادری، مولانا حسین شہید، سنجن سنگھ ، مجاہد ہاشمی، پریم کمار، جسوین جسراج، ڈاکٹر کدری کرشنا، کرسچن طبقے کے نمائندے پرسنین کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔جسٹس چندرا کمار نے کہا کہ سیکولر جماعتوں کو ذرائع ابلاغ و دیگر ذرائع کا استعمال کرکے فرقہ پرستوں کے خلاف شعوری مہم چلانا چاہیے۔ جناب حامد محمد خان نے کہا کہ ہجومی تشدد کے خلاف ہم اقلیتوں کو متحد ہوکر ان کے خلاف قانونی، سماجی، سیاسی طور پر مہم چلانا چاہئیے۔ جسٹس ای اسماعیل نے کہا کہ ہم کو بستیوں میں جاکر عوام سے ملاقات کرکے ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے۔ انہو ںنے کہا کہ ہجومی تشدد کے مقدمات کی سنوائی فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ ہونا چاہیے اور خاطیوں کو پھانسی کی سزا دینا چاہئے۔ مولانا طارق قادری نے کہا کہ مسلم قائدین دیگر اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی سے ملاقات کرکے ہجومی تشدد کے مقدمات کی سنوائی کیلئے خصوصی قانون بنانے اور ان مقدمات کی جلد سنوائی کے لئے خصوصی عدالت قائم کرنے کے لئے انہیں توجہ دلانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہم کو چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو سے بھی ملاقات کرکے ہجومی تشدد کے بارے میں توجہ دلانا چاہیے۔ مولانا حسین شہید نے کہا کہ برہمن طبقے کے لوگ سازش کرکے دلتوں کو مذہب اسلام کے خلاف تیار کررہے ہیں۔ حکومت کو معاشرے میں نفرت پیدا کرنے والی ہندو تنظیموں کے مراکز پر دھاوے کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔ جناب ضیاء الدین تعمیر ملت نے کہا کہ آر ایس ایس 1925ء سے ہندوتوا کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے۔ جناب نیئر نے کہا کہ ہمیں ایسے حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کو تحریک انسانیت کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر کدری کرشنا نے کہا کہ مسلم تنظیموں کو شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں ایس سی ایس ٹی بی سی طبقے کے ساتھ اجلاس پر زور دیا ۔ جناب نعیم اللہ شریف نے کہا کہ نربھیا قانون کی طرح ہجومی تشدد میں حصہ لینے والوں کو سزا دینے کیلئے نیا قانون بنانا چاہیے۔ اس موقع پر جناب شفیق الزماں آئی اے ایس، سنجن سنگھ، جسوین جسراج کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا۔ ایس سی، ایس ٹی ، بی سی مسلم فرنٹ کے نمائندے حیات حسین حبیب، ایم ایم شریف، پروفیسر تنویر کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ جناب ثناء اللہ خان صدر نشین ایس سی ایس ٹی بی سی مسلم فرنٹ نے کہا کہ جلد ہی تمام ایس سی ، یس ٹی، بی سی ، کرسچن و دیگر طبقے کے قائدین کا اجلاس منعقد کرکے ایک لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔