ہندوستان کو پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت سے انکار

   

تنازعہ اقوام متحدہ کے خصوصی شعبہ آئی سی اے او سے رجوع ۔ مودی کے سہ روزہ دورۂ سعودی عرب میں 12 اہم معاہدوں پر دستخط
نئی دہلی ۔ 28 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے پاکستان کی فضائی حدود کے وزیراعظم مودی کے دورۂ اقوام متحدہ و سعودی عرب کیلئے استعمال کی اجازت سے انکار کردیا۔ ہندوستان نے یہ تنازعہ بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم اقوام متحدہ سے رجوع کردیا ہے۔ ہندوستان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ پاکستان کا انکار اچھی طرح مسلمہ بین الاقوامی طریقۂ کار سے انحراف کے مترادف ہے ۔ ہندوستان کو پاکستان کے اس فیصلہ پر افسوس ہے ۔ ہندوستان اس اجازت کے لئے اپنا اصرار جاری رکھے گا ۔ دریں اثناء اس کی شکایت اقوام متحدہ کے خصوصی شعبہ آئی سی اے او میں کردی ہے ۔ قبل ازیں یو این آئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ہندستان نے سعودی عرب کے دورے کیلئے وزیراعظم نریندرمودی کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدوداستعمال کرنے کی درخواست اس کے ذریعہ مسترکردیے جانے کے بعد اس مسئلہ کو بین الاقوامی شہری ہوابازی کی تنظیم (آئی سی اے او)میں اٹھایاہے ۔ذرائع کے مطابق آئی سی اے او کے ذریعہ طے شدہ ہدایات کے مطابق دیگر ملکوں کے ذریعہ اوورفلائٹ کلیئرنس کی درخواست کی جاتی ہے اور انھیں اسکی منظوری دی جاتی ہے ۔ پاکستان کو فضائی حدود کے استعمال کی بین الاقوامی روایت کو نہ ماننے کے اپنے فیصلہ پر غورکرنا چاہئے اور کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ کرنے کے لیے جھوٹے بیان کاسہارا لینے کی اپنی پرانی عادت کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ۔پاکستانی میڈیا میں خبروں کے مطابق پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کو کہاکہ پاکستان نے ہندستان کی وہ درخواست نامنظور کردی ہے جس میں ہندستانی وزیراعظم کی سعودی عرب دورے کیلئے انکے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی ۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیاتھا کہ یہ فیصلہ جموں کشمیر میں ہندستانی سلامتی دستوں کے ذریعہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان کے یوم سیاہ منانے کے تئیں یکجہتی کی وجہ سے کیاگیاہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دو روزہ دورہ پر آج شام ریاض روانہ ہورہے ہیں۔ وہ دونوں ملکوں کے مابین اسٹریٹجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام سمیت ایک درجن معاہدوں پر دستخط اور عالمی تجارتی نمائندوں کے ایک اہم اجلاس فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو (ایف آئی آئی)فورم سے خطاب کریں گے ۔ وزارت خارجہ میں اقتصادی تعلقات کے سکریٹری ٹی ایس تری مورتی نے اس دورے کی اہمیت کے سلسلے میں بتایا کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں معیشت، اسٹریٹجک امور، توانائی اور دہشت گردی سمیت متعدد شعبوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کافی استحکام اور اضافہ ہوا ہے۔ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ سعودی عرب نے اپنے ویژن 2030کے تحت جن آٹھ ملکوں کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا ان میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ دیگرممالک میں جرمنی، جاپان، چین، فرانس، امریکہ ،برطانیہ اور جنوبی کوریا ہیں۔ٹی ایس تری مورتی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دورے کے دوران توانائی، ڈیفنس،سول ایوی ایشن اورانسداد دہشت گردی سے متعلق تقریباً ایک درجن معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔ ان میں سب سے اہم انڈیا سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام کا معاہدہ ہے ۔ وزیراعظم مودی اور سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس کونسل کے مشترکہ چیئرمین ہوں گے ۔ یہ کونسل دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کی نگرانی کرے گی ۔گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے ۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت سالانہ 28بلین ڈالر ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ باہمی تجارت چار بلین ڈالر سے بھی کم ہے ۔سعودی عرب کی سرکاری پٹرولیم کمپنی آرامکو نے مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ پٹرولیم کے شعبے میں 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ٹی ایس تری مورتی کے مطابق اس وقت تقریباً چھبیس لاکھ ہندوستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور وہ سالانہ لگ بھگ گیارہ بلین ڈالر رقم وطن بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہرسال دو لاکھ ہندوستانی مسلمان حج کیلئے اور سات لاکھ سے زائد عمرہ کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں ۔ ان کی سہولت کیلئے وزیراعظم مودی کے اس دورے کے دوران ویزا اور ماسٹرکارڈ کی طرح حکومت ہند کی طر ف سے جاری کردہ ’روپے کارڈ‘ کے نام سے کریڈٹ؍ڈیبٹ کارڈ جاری کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے جائیں گے ۔ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران کافی اضافہ ہوا ہے ۔ دونوں ممالک بحری سلامتی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں اس برس کے اواخر میں دونوں ملک مشترکہ بحری فوجی مشق کرنے والے ہیں۔ہندوستان سعودی صیانتی ملازمین اور سائبر سیکورٹی کے شعبہ میں سعودی عہدیداروں کو تربیت بھی دے رہا ہے ۔ ٹی ایس تری مورتی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے ہے ،اور وزیر اعظم مودی دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے سلسلے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کیلئے مختلف اقدامات پر سعودی رہنماوں کے ساتھ بات چیت کریں گے ۔ تری مورتی نے یاد دلایا کہ سعودی تیل تنصیبات پر گزشتہ دنوں ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی تھی۔ وزیر اعظم کل 29اکتوبر کو ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ اینی شی ا یٹیو (ایف آئی آئی) فورم سے خطاب کریں گے ۔سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے زیر اہتمام منعقد اس سہ روزہ سالانہ اجلاس میں سعودی پالیسی سازوں کے علاوہ دنیا بھرکے اہم تجارتی رہنما شرکت کررہے ہیں۔جس میں عالمی اقتصادی رجحانات اور سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ٹی ایس تری مورتی نے بتایا کہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز وزیر اعظم مودی کے اعزاز میں ظہرانہ اور ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان عشائیہ دیں گے ۔مودی کا سعودی عرب کا یہ دوسرا دورہ ہے ،ا س قبل وہ 2016میں بھی ریاض گئے تھے ۔ اس وقت انہیں سعودی عرب کے اعلی ترین شہری اعزاز سے نوازا گیا تھا۔