ہندوستان کو کشمیر پر مذاکرات کیلئے پاکستان کی ایک اورپیشکش

   

کشمیر پر روڈ میپ کا مطالبہ ،ہندوستان کا ردعمل سے گریز، روس اور متحدہ عرب امارات کی خفیہ سفارتکاری جاری

اسلام آباد۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کے حوالے سے روڈ میپ پیش کرتا ہے تو وہ نئی دہلی کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی حکومت کشمیر کے متنازعہ خطے کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کے حوالے سے روڈ میپ پیش کرتا ہے تو وہ دیرینہ حریف ہندوستان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جمعے کے روزاسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا، جی ہاں، اگر کوئی روڈ میپ موجود ہے تو ہم ہندوستان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘‘عمران خان نے مزید کہا، حتی کہ اگر وہ ہمیں ان اقدامات کو ختم کرنے کے لیے روڈ میپ دیتے ہیں، جو بنیادی طورپر غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف تھے، تب بھی یہ ہمارے لیے قابل قبول ہے۔‘‘عمران خان اور ان کی حکومت کا اس سے قبل موقف تھا کہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ہندوستان کو پہلے سن 2019 کے اپنے اقدامات واپس لینا ہوں گے۔روئٹرز کے مطابق ہندوستانی وزارت خارجہ نے خبر رساں ایجنسی کی جانب سے عمران خان کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہمیشہ ‘مہذب‘ اور ‘کھلے‘ تعلقات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین کی مثال دیتے ہوئے کہا، ”یہ عام فہم ہے کہ اگر آپ برصغیر میں غربت کو کم کرنا چاہتے ہیں تو باہمی تجارت اس کے لیے سب سے بہتر ین طریقہ ہے۔‘‘حکومت پاکستان نے مارچ میں اپنے اعلی ترین اقتصادی فیصلہ ساز ادارے کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو اس وقت تک کے لیے موخر کردیا تھا جب تک کہ نئی دہلی کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنے اقدامات کا جائزہ نہیں لیتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر کی خود مختاری کو ختم کرکے ‘ریڈ لائن‘ عبور کی ہے۔ ”انہیں بات چیت بحال کرنے کے لیے ہمارے پاس واپس آنا ہوگا لیکن اب تک ہندوستان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔‘‘ اس سال کے اوائل میں ہندوستانی حکام نے کہا تھا کہ اگلے چند ماہ کے دوران تعلقات کو معمول پر لانے کے خاطر ایک روڈ میپ تیار کرنے کیلئے دونوں حکومتوں کے درمیان بیک ڈور چینل کے ذریعہ بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس طرح کے رابطوں کے حوالے سے اب تک کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت شرو ع ہوچکی ہے اور روس ان مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔بعد میں ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ متحدہ عرب امارات اس بیک چینل ڈپلومیسی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ مودی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی اور جموں و کشمیر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کردیا تھا۔ان اقدامات پر احتجاجاً پاکستان نے ہندوستان سے سفارتی تعلقات کم اور باہمی تجارت معطل کر لیے تھے۔