ہم جنگ سے خوف زدہ نہیں ، جنگیں وقار اور عزت نفس کیلئے لڑی جاتی ہیں ، ہارنے یا جیتنے کیلئے نہیں
اسلام آباد۔ 7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اندرون تین دن دوسرے اجلاس کی قیادت کرکے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یاد رہے کہ 5 اگست کو حکومت ہند نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی موقف دفعہ 370 کو منسوخ کرتے ہوئے ریاست کو مرکزی انتظام والی دو ریاستوں میں تقسیم کردیا تھا۔ پاکستان نے ہندوستان کے اس فیصلے کو مسترد کردیا اور عزم کیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے غیرقانونی اور تنہا کئے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دینے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے جہاں پاکستان کیلئے ہر متبادل زیرغورہے۔ دریں اثناء سرکاری ذرائع نے بتایا کہ این ایس سی ہندوستان کے فیصلے کے خلاف اور جموں و کشمیر میں پائے جانے والے موجودہ حالات میں بہتری کیلئے ہر ممکنہ کارروائی (اقدامات) کرے گی۔ قبل ازیں منگل کے روز کارپس کمانڈرس کا اجلاس اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ دریں اثناء پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلینے چاہئے۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور سخت لہجہ میں کہا کہ ہندوستان کا سفیر پاکستان میں کیا کررہا ہے؟ ہم نے ہندوستان کیساتھ سفارتی تعلقات کیوں برقرار رکھے ہیں اور ہمارے سفیر بھی ہندوستان میں کیا کررہے ہیں؟ فواد چودھری نے کہا کہ یوں تو ہندوستانی سفیر اجے بساریہ ایک انتہائی معزز شخص ہیں، لیکن وہ ایک فاشسٹ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کشمیر دوسرا فلسطین نہ بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنگ سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ جنگیں انسان اپنے وقار اور عزت نفس کیلئے لڑتا ہے ناکہ ہارنے یا جیتنے کیلئے۔ ہمارے پاس دو ہی متبادل ہیں بے عزتی کو قبول کرنا یا جنگ کرنا۔ قبل ازیں ایک خانگی نیوز چیانل سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر کیساتھ جو کچھ بھی کیا ہے، اس کیلئے پاکستان انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) سے رجوع ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان مقبوضہ کشمیر نے بھی ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔
