ہندوستان کیلئے ورلڈ کپ سے قبل چند مسائل کا سامنا

   

وشاکھاپٹنم ، 29جنوری (ایجنسیز) وشاکھاپٹنم کے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے چوتھے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ نے ہندوستانکو 50 رنز سے شکست دے کر سیریز کی اپنی پہلی کامیابیحاصل کی جس کے بعد ورلڈ کپ سے قبل دفاعی چمپئن ہندوستان کے چند مسائل سامنے آئے ہیں جن پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔گزشتہ رات ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن نیوزی لینڈ نے 215/7 کا مضبوط اسکور بنایا۔ جواب میں ہندوستانی ٹیم 18.4 اوورز میں 165رنز پرآل آؤٹ ہوگئی۔ یہ شکست ٹی20 ورلڈکپ 2026 سے قبل ٹیم انڈیا کے لیے ایک پرسکون حالات سے باہر نکلنے کا اشارہ ثابت ہوئی ہے،کیونکہ ٹیم چار بڑی وجوہات کی وجہ سے پوری طرح سے ناکام رہی ۔ اول ہندوستان کی اننگزکا آغاز خراب رہا۔اوپنر ابھیشیک شرما پہلی ہی گیند پر گولڈن ڈک پر آؤٹ ہوئے، انہیں میٹ ہنری نے کیچ لیا۔ کپتان سوریاکمار یادیو بھی صرف 8 رنز بناکر جلد روانہ ہوگئے۔ ٹاپ آرڈرکے گرنے سے ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا اور پاور پلے میں دو اہم وکٹوں کے نقصان نے پیچھا کرنا مشکل بنا دیا۔ اہم مڈل آرڈر بیٹر ہاردک پانڈیا بھی ناکام رہے۔ وہ 5گیندوں پر صرف 2 رنز بناکر مچل سینٹنرکے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ ہاردک کی ناکامی ٹیم کے لیے ایک بڑا دھکا تھا،کیونکہ فنشرکے طور پر ان کا کردار اہم ہے۔ اگرچہ شیوم دوبے نے 23 گیندوں پر 65 رنزکی شاندار اننگز کھیلی، لیکن دوسرے بیٹرس کی تعاون نہ ملنے کی وجہ سے ٹیم 200 کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔ بولنگ میں اسٹار بولرز مہنگے ثابت ہوئے۔ ہندوستانی بولروں نے نیوزی لینڈ کے بیٹرکے خلاف جدوجہد کی۔ ہرشیت رانا نے اپنے چار اوورز میں 13.50 کے اکانومی ریٹ سے 54 رنز دے کر سب سے زیادہ رنز دیے۔ جسپریت بمراہ نے بھی 38 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ روی بشنوئی کی بولنگ بھی مہنگی پڑی، انہوں نے 49 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ دوسری طرف نیوزی لینڈ نے پاور پلے میں 71 رن بنائے جو ہندوستان ٹیم کے لیے بہت بڑا نقصان ثابت ہوا۔ ہندوستان نے صرف پانچ بولروں کا استعمال کیا جو اوس کی وجہ سے مشکل ثابت ہوئے۔ ہاردک پانڈیا اور شیوم دوبے کو استعمال نہیں کیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے اسپنرز مچل سینٹنر اور ایش سودھی نے درمیانی اوورز میں اسکورکوکم رکھا اور وکٹیں حاصل کیں، ہندوستانی بولر رن کے بہاؤکو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔یہ وہ مسائل ہیں جو ٹیم کو ورلڈ کپ سے قبل ختم کرنے ہوں گے ورنہ ٹیم کے لئے ٹرافی کے دفاع مشکل ہوسکتا ۔