اسد علی ایڈوکیٹ
ہندوستان دستور کے اعتبار سے ایک سیکولر ملک ہے جسے دستور سازوں نے بڑے سوچ وچار کے ساتھ ماہرین کے مشورے سے تیار کیا اور بعض نام نہاد قائدین جو سیکولرازم کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور جانبدارانہ نظریات کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں۔ حالیہ عرصہ کے دوران فرقہ پرست طاقتوں کو غیرمعمولی عروج حاصل ہوا ہے اور فرقہ پرست طاقتیں عوام میں نفرت کے جذبات بھڑکانے کے لئے موضوعات اُٹھاتے ہیں جو کسی کے ذہن میں بھی نہیں آتے۔ ایک سابق چیف جسٹس آف انڈیا نے ضمانت کے بارے میں اور جیل کے استثنائی اُصولوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ خصوصی عدالتوں اور ضلع ججس کو چاہئے کہ وہ اس رجحان اور عوامی تاثر کو ختم کرے اور شہریوں کی شخصی آزادی کو اہمیت دے۔
ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بہت سے قیدیوں اور ملزموں کو مقدمہ چلائے بغیر قید کاٹنا پڑتا ہے حالانکہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان کے خلاف ثبوت پیش کرتے ہوئے مقدمہ چلایا جائے لیکن دیکھا جارہا ہے کہ بہت سے ملزمین مختلف جیلوں میں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے برسوں سے جیلوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، نہ تو ان کے خلاف کوئی ثبوت فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا جاتا ہے اور نہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ کو آنے والے کیسیس کی بڑی تعداد سے اِس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ Bail is a Role, Jail is a Exception ، جو بتدریج انحطاط کا شکار ہے۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے بھی بتایا کہ ضلع ججس کو چاہئے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ اور استغاثہ سے باریک بینی سے الزامات کے تقدس کے بارے میں جرح کرے جبکہ ایسے الزامات عام طور پر عائد کئے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جرح کرتا ہے تو اسے سزا دینے کا اختیار پولیس کو نہیں بلکہ عدالت کو ہے لیکن بعض پولیس ملازمین قبل ازوقت بلا اختیار اور خلاف قانون اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ قانونی اعتبار سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم نہیں قرار دیا جاسکتا تاوقتیکہ عدالت میں اس کا جرم ثابت نہ ہو لیکن سوال ہے کہ آخر کس نے پولیس کو عوام کے ساتھ مارپیٹ یا تھرڈ ڈگری کا اختیار دیا ہے جو سراسر دستور اور قانون کے مغائر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ضمانت حاصل کرنا ملزم کا بنیادی حق ہوتا ہے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کو چاہئے کہ وہ اس پر توجہ دیتے ہوئے انتہائی اہم مسئلہ کی یکسوئی کرے تاکہ کئی برسوں سے جیلوں میں محروس ملزموں کو بنیادی حق سے استفادہ کا موقع ملے اور وہ عام شہریوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے لیکن بعض خلع عدالتوں میں پیش ہونے والے ملزموں سے مناسب انصاف نہیں کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ایسے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور وہ اِس بات کے خواہاں ہوتے ہیں کہ وہ دیگر شہریوں کی طرح آزادی کے فضاء میں سانس لینے کا موقع ملیں۔
ماضی میں محکمہ پولیس اپنی کارکردگی اور عملے کی فرض شناسی و دیانت داری پر شہرت رکھتا ہے اور بیشتر پولیس عہدیدار انتہائی دیانت دار ہوا کرتے تھے۔ بعض اوقات پولیس سے رجوع ہونے والے ناجائز طور پر پولیس کو متاثر کرنے کے لئے اور ان کو جانبدار بنانے کے لئے نقد رقمی پیش کش اور دیگر ترغیبات فراہم کیا کرتے تھے لیکن دیانت دار عہدیدار کبھی بھی ایسی چیزوں سے متاثر نہیں ہوتے اور اپنے فرض کی ادائیگی دیانتداری کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ اکثر مقدمات میں عدالتی فیصلہ میں برسوں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات مقدمہ کے فریق ثانی اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے نظام انصاف رسانی میں غیرمعمولی تاخیر اور انصاف کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا، ایس اے بوبڈے اور رنجن گوگوئی نے بھی کہا تھا کہ ججس کو دیگر کئی گوشوں سے دباؤ ہوتا ہے۔ یہ لوگ آزادانہ طور پر اپنے کام انجام نہیں دے سکتے اور عدلیہ کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ججس اور عدلیہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج اسی وقت ممکن ہے جب عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ حال ہی میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کرتے ہوئے ریمارکس کیا کہ پولیس اسٹیشن سیٹلمنٹ میں تبدیل ہوچکے ہیں اور عدالت نے کہاکہ ریاست میں پولیس کی جانب سے دیوانی معاملات میں مداخلت کے رجحان میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے اور پولیس عہدیدار مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے سیول معاملات کی یکسوئی کررہے ہیں۔ اِس سلسلہ میں ہائی کورٹ نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی ہے کہ پولیس عہدیداروں کو سیول معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نئے رہنمایانہ خطوط جاری کرے۔ ان حالات میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے گذارش ہے کہ فرقہ پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنائیں ان کی سازشوں کو کامیاب نہ ہونے دیں اور ہندوستان کے جیلوں میں ملزموں کی رہائی کے لئے سخت شرائط نہ عائد کئے جائیں اور قانون پر عوام کا اعتماد بحال کرے۔