نئی دہلی۔ ہندوستان میں سرکاری سطح پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں ملک کی معیشت میں تشویش ناک مندی دیکھنے میں آئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی معیشت میں اس تین ماہ کے عرصے میں 23 اعشاریہ نو فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ سنہ 1996 میں جب سے ہر سہ ماہی کے بعد معاشی نمو کے اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری کیے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، یہ اب تک کے بدترین اعداد و شمار ہیں۔کورونا وائرس کی وباء کے بعد عائد کی گئی پابندیوں اور لاک ڈاؤن سے معاشی سرگرمیاں اس سہ ماہی کے دوران بری طرح متاثر ہوئیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ‘ریسیشن’ یا معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ ان کے اندازوں کے مطابق اگلی سہ ماہی میں بھی شرح نمو میں کوئی بہتری ہوتی نظر نہیں آتی۔کسی بھی معیشت کو اس وقت ‘ریسیشن’ یا معاشی بحران کی حالت میں قرار دیا جاتا ہے جب مسلسل دو سہ ماہیوں تک اس کی معاشی نمو منفی ریکارڈ کی جائے۔آخری مرتبہ ہندوستان کی معیشت 1980 ء میں ریسیشن میں گئی تھی اور آزادی کے بعد سے اب تک چار مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔ہندوستان کی معیشت کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے قبل ہی مندی کا شکار تھی۔ گزشتہ سال ملک میں بے روزگاری کی شرح 45 سالوں میں سب سے زیادہ سطح پر تھی۔