G-20 اجلاس کے مندوبین سے وزیراعظم نریندر مودی کی بات چیت
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے آج عالمی کاروباری برادری سے کہا کہ ’’ہندوستان کے ساتھ آپ کی دوستی جتنی گہری ہوگی، دونوں کی خوشحالی اتنی ہی زیادہ ہوگی‘‘۔یہاں تین روزہ جی۔20 چوٹی کانفرنس کے آخری دن خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ ’’کاروبار امکانات کو خوشحالی، رکاوٹوں کو مواقع میں، خواہشات کو کامیابیوں میں بدل سکتا ہے ۔ چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، عالمی ہوں یا مقامی، کاروبار سب کے لیے ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا عالمی ترقی کا مستقبل تجارت کے مستقبل پر منحصر ہے ‘‘۔جی۔20تھیم ’آر آئی ایس آئی‘کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ ‘آئی’ جدت کی نمائندگی کرتا ہے ، لیکن یہ جامعیت کی ایک اور ‘آئی’ کی تصویر بھی پینٹ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی 20میں مستقل نشستوں کے لیے افریقی یونین کو مدعو کرتے وقت بھی یہی طریقہ اپنایا گیا ہے ۔ جی 20میں بھی وزیراعظم نے کہا کہ افریقہ کی اقتصادی ترقی کو فوکس ایریا کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ اس فورم کے جامع نقطہ نظر کا اس گروپ پر براہ راست اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کئے گئے فیصلوں کی کامیابیوں کا عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی پر براہ راست اثر پڑے گا۔کووڈ-19 وبائی مرض سے سیکھے گئے اسباق کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ وبائی مرض نے ہمیں سکھایا کہ جس چیز کی ہماری سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے ‘باہمی اعتماد’۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب وبائی بیماری نے باہمی اعتماد کی عمارت کو تباہ کر دیا تھا، ہندوستان اعتماد اور انکساری کے ساتھ کھڑا تھا، باہمی اعتماد کا پرچم بلند کرتا تھا۔