وشاکھاپٹنم۔ پہلے دونوں میچ ہارنے کے بعد کرو یا مرو کی صورتحال میں ہندوستانی ٹیم منگل کو یہاں تیسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میں سیریز کو زندہ رکھنے کے مقصد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔اس اہم مقابلے میں اسپنرز، اوپنر روتوراج گائیکواڈ اورکپتان رشبھ پنت پر کافی دباؤ ہوگا جو خود رنز بنانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ہندوستان نے لگاتار 12 میچ جیت کر اس سیریز کا آغاز کیا تھا لیکن جنوبی افریقہ کی مضبوط ٹیم کے خلاف پہلے دو میچوں میں وہ ایک بھی نہیں کامیابی حاصل نہیں کرپائی ۔ پنت کی قیادت والی ٹیم کئی شعبوں میں جدوجہد کر رہی ہے اور اسے ایک دن کے اندر ان کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا۔ پہلے میچ میں ہندوستان کو ناقص بولنگ کی وجہ سے شکست ہوئی تو دوسرے میچ میں بیٹرس نے مایوس کیا۔ ہندوستانی اوپنرز اب تک پاور پلے میں اچھی شروعات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ایشان کشن نے اب تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن رتوراج صرف 23 اور ایک رن ہی بنا پائے ہیں۔ فاسٹ بولروں کے سامنے ان کی تکنیک پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شریاس ایر اچھی شروعات کے باوجود تیزی سے رنز نہیں بنا سکے جس سے آگے بیٹرس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہاردک پانڈیا نے پہلے میچ میں کچھ شاندار شاٹس لگائے تھے لیکن وہ کٹک کی وکٹ پر بھی نہیں چل سکے۔ وہ بولنگ میں بھی ناکام رہے ہیں۔ کے ایل راہول کیجگہ کپتانی سنبھالنے والے پنت نے اب تک 29 اور پانچ رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے 45 ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں 23.9 کی اوسط اور 126.6 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف تین نصف سنچریاں اسکور کی ہیں جو ان کی صلاحیتوں کے مطابق نہیں ہے۔پنت کے بطور کپتان فیصلوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسرے میچ میں دنیش کارتک سے پہلے اکشر پٹیل کو بھیجنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا۔ ان سے توقع ہے کہ وہ بطور کپتان اور ایک کھلاڑی کے طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ بولنگ میں یوزویندر چہل اور اکشر کی اسپن جوڑی نے اب تک مایوس کیا ہے۔ ڈیوڈ ملر، ریسی وین ڈیر ڈوسن اور ہینرک کلاسن نے اس کے خلاف آسانی سے رنز بنائے ہیں ۔ تیسرے میچ میں ان میں سے کسی کو بھی خارج کیا جا سکتا ہے۔ ٹیم انتظامیہ نوجوان لیگ اسپنر روی بشنوئی یا آل راؤنڈر وینکٹیش ایرکو منتخب کر سکتی ہے۔ وینکٹیش آئی پی ایل میں بھی اننگز کا آغاز کرتے رہے ہیں۔ بھونیشور کمارکو چھوڑ کر ہندوستانی بولرس وکٹیں لینے میں ناکام رہے ہیں۔ ہندوستانی بولر ایک یا دو اوورز میں رنز دے کر پہلے کی گئی محنت کو خراب کر رہے ہیں اب جبکہ سیریز داؤ پر لگی ہے، انہیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں اب تک ایک بھی وکٹ نہ لینے والے اویس خان کی جگہ ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ فاسٹ بولر عمران ملک یا ارشدیپ سنگھ کو ڈیبیوکرنے کا موقع دے سکتی ہے۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ ہر شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس کے بولرس وکٹیں لے رہے ہیں اور بیٹرس پارٹنرشپ بناکر مقابلے میں کامیابی حاصل کررہے ہیں ۔ پہلے میچ میں ملر اور وان ڈیر ڈوسن نے شاندار کارکردگی دکھائی جبکہ دوسرے میچ میں کلاسن نے 81 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔