مشہور قانون دان اور سماجی کارکن محمود پراچہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کے دبے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا جائے جس میں دلت ، او بی سی ، سکھ اور بدھ مت سمیت تمام طبقات شامل ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہندوستان میں سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور نئی حکمت عملی طے کرنے کے لئے مسلمانوں کی یہاں ایک بہت بڑی آبادی ہے۔
محمود پراچہ جو مختلف معاملات میں ملوث مسلمانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں انہوں نے بتایا کہ امت مسلمہ کسی بھی برادری سے کم نہیں ہے۔ انکو خوف سے باہر انے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد اراضی کی ملکیت کے معاملے کی پیروی کرتے ہوئے ہم سے سنگین غلطیاں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانوں نے کوئی مستحکم اقدام نہیں اٹھایا۔ اس کے علاوہ 6 دسمبر 1992 کو مسجد کے انہدام کے بعد کسی بیرونی مداخلت کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 2003 میں اے ایس آئی کی رپورٹ میں ہیرا پھیری کی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ثبوت ظاہرا ہمارے خلاف گیا۔
اور اے ایس آئی کمشنر ڈاکٹر کے.وی. رمیش سے کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
محمود پراچہ نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو فعال ،قابل اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے۔
مسٹر جناح پر تنقید کرتے ہوئے پراچہ نے کہا کہ جناح نے 1947 میں مسلمانوں کو تقسیم کرکے تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی۔
محمود پراچہ نے مشورہ دیا کہ ہندوستان کے مسلمان نوجوان قیادت کی حوصلہ افزائی کریں۔
