ہندوستان کے 300 سے زائد اضلاع میں کورونا کے مثبت کیسیس

   

حکومتوں کے لیے تشویشناک صورتحال ، اومی کرون کو معمولی نہ سمجھنے کا مشورہ
حیدرآباد۔13جنوری(سیاست نیوز) ملک بھر کے 300 سے زائد اضلاع میں کورونا وائرس کے معائنوں کا مثبت پائے جانے کا فیصد 5 کو عبور کرچکا ہے جو کہ حکومتوں کے لئے انتہائی تشویشناک صورتحال کا سبب بن سکتا ہے۔ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ اور 300 سے زائد اضلاع میں 5فیصد سے زائد پازیٹیو مریضوں کی نشاندہی کے بعد مرکزی حکومت کے مختلف محکمہ جات بالخصوص نیتی آیوگ نے حکومت کو روانہ کی گئی سفارش میں کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کو معتدل یا محض سردی ‘ کھانسی اور بخار کا سبب تصور نہ کرے کیونکہ اومی کرون دنیا بھر میں جس رفتار سے پھیلی ہے اس رفتار سے اس کے طویل مدتی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں اور ان خدشات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اومی کرون کے شکار مریضوں کے ایچ آر سی ٹی معائنوں میں ان کے پھیپڑوں میں کوئی زیادہ خرابی نہیں پائی جارہی ہے لیکن خون منجمد ہونے کے خدشات سے انکار نہیں کیا جا رہاہے۔ عہدیداروں اور ماہرین نے ہندستان کے 300 اضلاع میں مثبت معائنوں کا فیصد5 کو عبور کرجانے کے بعد تشویش کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ملک کے ان اضلاع میں جہاں معائنوں کے مثبت پائے جانے کا فیصد5 سے تجاوز کرچکا ہے اگر فوری طور پر سخت احتیاطی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان اضلاع کی حالت مزید ابتر ہوسکتی ہے اور کورونا وائرس کے معائنوں میں جہاں 1.1تا2فیصد تک مریضوں کو کورونا وائرس کی توثیق ہوا کرتی تھی اور اب 5 فیصد سے عبور کرنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ مستقبل قریب میں ان 300 اضلاع میں جہاں کورونا وائرس کے علامات کا شکار 5فیصد سے زائد مریض مثبت پائے جا رہے ہیں ان اضلاع میں یہ فیصد 11.5 تک پہنچ سکتا ہے اسی لئے احتیاطی اقدامات کو سخت کرنے کا مشورہ دیا جا رہاہے۔ ڈاکٹرس اور سائنسداں کے علاوہ محققین کا کہناہے کہ موجودہ حالات میں ریاستی ومرکزی حکومتوں کو اومی کرون کو نظرانداز کرنے کے بجائے سخت احتیاطی اقدامات کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ محققین کا کہناہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو بھی متاثر کر رہی ہے اور تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے لیکن جن کی ٹیکہ اندازی ہوچکی ہے انہیں معمولی علامات کے ساتھ طبیعت میں بحالی آنے لگی ہے۔م