ہندوستان ہمارا ’فرمانبردار ‘ ملک ہے: امریکہ

   

روس سے عارضی طور پر تیل خریدنے کی اجازت اسی لئے دی گئی ہے: اسکاٹ بیسینٹ

واشنگٹن ۔ 7 مارچ (ایجنسیز) امریکہ نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے، یہ اجازت صرف اس تیل کے لیے ہے جو پہلے ہی جہازوں میں لدا ہوا سمندر میں موجود ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندوستان امریکہ کا بہترین فرمانبردار ملک ثابت ہوا ہے، جیسا امریکہ نے کہا ہندوستان نے بالکل ویسا ہی کیا، ہندوستان نے امریکہ کے کہنے پر اس سال روسی تیل کی خریداری کم کر دی تھی اور اس کی جگہ امریکی تیل خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سپلائی کے دباؤ کے باعث امریکہ نے وقتی طور پر ہندوستان کو یہ رعایت دی ہے۔ اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق سمندر میں روسی خام تیل کی کروڑوں بیرل مقدار موجود ہے، اس تیل کو فروخت کی اجازت دینے سے عالمی منڈی میں فوری سپلائی بڑھ سکتی ہے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کو جنوبی ایشیاء کے قریب موجود روسی تیل خریدنے اور اسے اپنی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی تیزی سے بڑھ سکے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتِ حال کے باعث کیا گیا ہے جہاں سے گزرنے والی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہندوستان کو 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، اس کے تحت 5 مارچ 2026ء تک جہازوں میں لدا روسی تیل ہندوستان پہنچا کر فروخت کیا جا سکے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف عارضی ہے اور اس سے روس کو بڑا مالی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اس میں صرف پہلے سے موجود ذخیرے کی فروخت شامل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری پر ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی فریم ورک طے پانے کے بعد یہ ٹیرف ختم کر دیا گیا تھا۔