ہندو۔مسلم کے من پسند موضوع پر چیف منسٹر یوگی کے پھر متنازعہ تبصرے

   

سو ہندو خاندانوں میں ایک مسلم خاندان نہایت محفوظ مگر اس کے برعکس ہرگزنہ ہونے کا دعویٰ ، سمیتا پرکاش کو انٹرویو

لکھنو: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلم خاندانوں کے کسی گروپ کے درمیان ہندوؤں کی حفاظت پر اپنے اسلامو فوبک موقف سے نیا تنازعہ کھڑا کردیا۔ ان کے تبصروں نے ایک بار پھر تنازعہ چھیڑ دیا ہے، خاص طور پر ان کے اس دعوے کی وجہ سے کہ ہندو لوگ مسلم اکثریتی علاقوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ ایک مسلم خاندان ایک سو ہندو خاندانوں میں سب سے محفوظ ہے، لیکن کیا سو مسلم خاندانوں میں 50 ہندو محفوظ رہ سکتے ہیں؟ چیف منسٹر یوگی نے اپنے سوالیہ جملہ کا نفی میں جواب دیتے ہوئے بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک میں مبینہ ظلم و ستم کا حوالہ دیا۔ وہ ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کیلئے سمیتا پرکاش کو انٹرویو دے رہے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ تبصرہ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے والے اشتعال انگیز بیانات کی ان کی طویل تاریخ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اپنی تفرقہ انگیز بیان بازی کے لیے معروف چیف منسٹر یوگی نے ماضی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں ہی رہنے والے مسلمانوں نے ملک پر کوئی احسان نہیں کیا اور آبادیاتی تبدیلیوں کے بارے میں متنازعہ دعوے کئے جو مسلمانوں کو منفی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکمرانی پر مسلمانوں کے خلاف ماحول کو لگاتار پروان چڑھانے کا الزام لگتا رہ ہے، جس میں ان کا یہ بدنام زمانہ بیان بھی شامل ہے کہ اگر ایک ہندو لڑکی کو مسلمان لے جائیں تو بدلے میں 100 مسلم لڑکیوں کو اٹھا لینا چاہئے۔ 2017 میں وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سے یوگی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی قیادت میں فرقہ وارانہ فسادات ختم ہوگئے ہیں، اور اس کی وجہ بی جے پی حکمرانی ہے۔ چیف منسٹر یوگی نے سناتن دھرم کو سب سے قدیم مذہب قرار دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی ہے کہ تاریخ میں ہندو حکمرانوں نے اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط نہیں کیا ہے۔ ہولی کی تقریبات کے دوران مسجدوں پر کپڑا ڈالنے کے معاملے میں ان کا حالیہ دفاع فرقہ وارانہ حساسیت کے بارے میں ان کے متنازعہ موقف کو مزید واضح کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے اسے محرم کے جلوسوں کے مواقع والے طریقوں سے تشبیہ دی۔ یہ تبصرے یوگی آدتیہ ناتھ کے سیاسی نقطہ نظر کے بڑے رجحان کا حصہ ہیں، جہاں وہ ہندو قوم پرستی کی دعوت دیتے ہیں اور اقلیتی گروہوں، خاص طور پر مسلمانوں کو خارج کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بیان بازی فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاتی ہے اور بھارت کی سب سے زیادہ گنجان آباد ریاستوں میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پچھلے چند سال میں اتر پردیش میں نفرت پر مبنی جرائم کے واقعات تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو 2022 کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اتر پردیش میں بھارت میں نفرت انگیز تقریر کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے، جن میں 217 کیس رپورٹ ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہے۔