نظام آباد۔22 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق میئر نظام آباد ڈی سنجے نے کہا کہ شہر میں ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کے فروغ سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر انہیں ایک ایسے شخص کی جانب سے چیلنج دیا گیا جو آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔ ڈی سنجے کے مطابق مذکورہ شخص نے کہا کہ ہندو مسلم بھائی چارے کا نعرہ صرف ہندوؤں کی جانب سے بلند کیا جاتا ہے اور مسلمان اس کی تائید نہیں کرتے تاہم اگر وہ 10 مسلم علماء سے اس پیغام کی حمایت حاصل کرلیں تو وہ ذاتی طور پر آکر ان سے ملاقات کریں گے۔ڈی سنجے نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد میں بھائی چارے اور باہمی احترام کی روایت بہت قدیم ہے اور شہر کے مسلمان عوام اور علماء ہمیشہ اتحاد و ہم آہنگی کے علمبردار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دس سے کہیں زیادہ افراد اس پیغام کی تائید کریں گے اور وہ 24 گھنٹوں میں اس کی عملی مثال پیش کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ مسلمانوں کی تائید حاصل نہ کرسکے تو وہ سیاست چھوڑنے کو تیار ہیں، تاہم انہیں یقین ہے کہ شہر کی مشترکہ تہذیبی روایت اس چیلنج کا مثبت جواب دے گی۔انہوں نے نظام آباد کے علماء، آئمہ مساجد اور معزز شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بھائی چارے، باہمی احترام اور گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے لیے اپنے ویڈیو پیغامات ارسال کریں تاکہ اتحاد و یگانگت کا واضح پیغام دیا جاسکے۔ ڈی سنجے نے کہا کہ نظام آباد میں صدیوں سے قائم باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے اقدامات شہر کے امن، یکجہتی اور سماجی استحکام کو مزید مضبوط بنائیں گے۔