ہندو خاتون کوپیران کلیر درگاہ میں نماز پڑھنے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی اجازت

   

Ferty9 Clinic

دہرادون : اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش کے نیمچ کی رہنے والی ایک ہندو خاتون کو ہریدوار کے پیران کلیر میں مزید پولیس سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے داخل عرضی پر آج سماعت کی۔ ڈویژنل بنچ نے اس عرضی پر سماعت کی اور عرضی دہندہ کو ہریدوار ضلع میں واقع درگاہ پیران کلیر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی اور پولیس کو ضروری انتظام کرنے کا بھی حکم دیا۔ آئندہ سماعت کیلئے 22 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے خاتون سے پوچھا کہ آپ نے مذہب نہیں بدلا ہے، پھر آپ وہاں نماز کیوں پڑھنا چاہتی ہیں۔ خاتون نے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اس سے متاثر ہے، اس لیے وہ وہاں نماز پڑھنا چاہتی ہے۔ لیکن ان کو پیران کلیر میں نماز نہیں پڑھنے دی جا رہی ہے۔ خاتون نے کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اس نے شادی نہیں کی ہے، نہ ہی وہ اپنا مذہب بدلنا چاہتی ہے۔دراصل مدھیہ پردیش کے نیمچ کی رہنے والی 22 سالہ بھاؤنا اور ہریدوار باشندہ فرمان نے ہائی کورٹ میں درگاہ پیران کلیر میں نماز پڑھنے اور اس کے لیے انھیں سیکورٹی دیئے جانے کو لے کر عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ انھیں پیرا کلیر میں عبادت کرنی ہے، لیکن انھیں مختلف مذہبی تنظیموں سے خطرہ ہے اس لیے سیکورٹی فراہم کی جائے۔ خاتون نے کہا کہ وہ ہندو مذہب کی ماننے والی ہے۔ وہ بغیر کسی خوف، معاشی فائدہ یا دباؤ کے پیران کلیر میں عبادت کرنا چاہتی ہے۔