مرادآباد۔ 24 جنوری (یو این آئی) پولیس نے پانچ مسلم طالبات کے خلاف اس وقت مقدمہ درج کیا جب بارہویں جماعت کی ایک ہندو طالبہ نے الزام لگایا کہ اسے مرادآباد کے علاقہ بلاری میں زبردستی برقعہ پہنایا گیا اور اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ متاثرہ لڑکی کے بھائی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، تمام چھ لڑکیاں ایک ہی اسکول میں بارہویں جماعت میں پڑھتی ہیں اور ایک ہی ٹیوشن کلاس میں جاتی ہیں۔ پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ یہ واقعہ بلاری کی شاہ کنج کالونی میں پیش آیا اور گلی میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا۔ ایک منٹ 10 سیکنڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ برقعہ پوش پانچ لڑکیاں ہندو طالبہ کو سڑک پر روکتی ہیں اور اسے برقعہ پہناتی ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی اپنے بیگ سے برقعہ نکال کر متاثرہ لڑکی کو پہننے میں مدد کرتی نظر آتی ہے ، جبکہ دیگر لڑکیاں آس پاس نظر رکھتی ہیں تاکہ کوئی قریب نہ آسکے ۔ جیسے ہی انہیں کسی کے آنے کا احساس ہوتا ہے ، یہ گروپ وہاں سے ہٹ جاتا ہے ۔ پولیس کو دی گئی تحریری شکایت میں متاثرہ لڑکی کے بھائی نے الزام لگایا کہ یہ لڑکیاں اس کی نابالغ بہن پر بار بار ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں، اور دعویٰ کر رہی تھیں کہ اس سے اس کی تقدیر بدل جائے گی۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ انہوں نے لڑکی کے ذہن کو اس کے اپنے مذہب کے خلاف کرنے کی کوشش کی اور یہ عمل جبری تبدیلیِ مذہب کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔ شکایت کنندہ نے ایک اسلامی تنظیم کے ممکنہ ملوث ہونے کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکیاں ہندو نابالغ لڑکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس کے زیرِ اثر کام کر رہی ہوں گی۔
اس نے معاملے کی مکمل تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس واقعہ نے مقامی ہندو تنظیموں میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے ، جنہوں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو کسی بھی قسم کے مذہبی جبر یا تبدیلیِ مذہب سے پاک رکھا جائے ۔ ایس پی (دیہات) کنور آکاش نے کہا کہ شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے ۔ معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔