دہلی میں نئی حکومت کے اقتدار میں نئی تاریخ رقم نہیں کی جاسکتی، اورنگ زیب نے کئی مندروں کو منظوری دی تھی، مسلمانوں کو بابری مسجد واپس کی جائے : وکیل کا استدلال
نئی دہلی ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا ملکیت مقدمہ کی سماعت کے آخری مرحلہ کو ایک نیا موڑ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت اترپردیش کو ہدایت کی ہیکہ ریاستی سنی وقف بورڈ کے صدرنشین ظفراحمد فاروقی کو خاطرخواہ سیکوریٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جنہوں نے اپنی جان کو لاحق اندیشوں کا اظہار کیا تھا۔ ظفر فاروقی عدالت کی طرف سے تشکیل شدہ تین رکنی مصالحتی پیانل کے ایک رکن سری رام پنچو کے ذریعہ یہ استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت پانچ ججوں پر مشتمل بنچ فی الحال اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے۔ سماعت کے 38 ویں دن چیف جسٹس نے سری رام پنچو کے ایک نوٹ پر توجہ مرکوز کی جس میں فاروقی نے اپنی جان کو لاحق خطروں کا اندیشہ کیا تھا جس پر بنچ نے کہا کہ ’’حکومت اترپردیش انہیں (فاروقی کو) خاطرخواہ سیکوریٹی فراہم کرے‘‘۔ چیف جسٹس سری رام پنچو کا نوٹ پڑھ رہے تھے۔ مسلم فریقوں کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ راجیو دھون نے بنچ سے کہا کہ ظفر فاروقی کو حکومت اترپردیش سے خطرہ ہے۔ انہیں اس مقدمہ سے ہٹانے کیلئے مبینہ سازش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر حکومت اترپردیش کے وکیل نے جو عدالت میں موجود تھے، عدالت عظمیٰ کو فاروقی کیلئے سیکوریٹی انتظامات کرنے کا یقین دلایا۔ مسلم فریقوں کے وکیل کے مطابق حکومت اترپردیش، سنی وقف بورڈ پر دباؤ ڈال رہی ہیکہ بیرون عدالت تصفیہ کرلیا جائے۔ وکیل نے شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ ’’وقف بورڈ چونکہ ریاستی حکومت کے تحت ہے۔ حکومت کو چیرمین کی جگہ ایسی کسی شخص کو لانے کااختیار ہے جو (شخص) اس (حکومت) کے احکام کی پابندی کرسکتا ہے‘‘۔ چیف جسٹس نے اشارہ دیا کہ اس مقدمہ کی بحث 16 اکٹوبر کو ختم ہوسکتی ہے۔ ایڈوکیٹ راجیو دھون نے کہا کہ این ڈی اے حکومت تاریخ کو دوبارہ رقم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے اس وکیل پر پُرزور بحث کی کہ متنازعہ مقام پر کھدائی کے بعد اگر کوئی چیز دستیاب بھی ہوتی ہے تو اس سے 450 سال قدیم بابری مسجد کے جواز کو کالعدم نہیں کہا جاسکتا۔ راجیو دھون نے استدلال پیش کیا کہ ’’عزت مآب لارڈ شپ کی صوابدید پر یہ ممکن ہیکہ تاریخ دوبارہ رقم کی جائے… اگر ایسا ہوگا تو کئی پیچیدہ مسائل ابھریں گے۔ یہ ایک ناقص اور غلط عمل ہوگا۔ تاریخ کی کتابیں آیا اب معزز لارڈ شپ کی (اس موضوع پر) سمجھ بوجھ کے مطابق لکھی جاتی ہیں تو میں نہیں چاہتا … دہلی میں (جب بھی) کوئی نئی حکومت آئے تاریخ دوبارہ رقم کی جائے‘‘۔ راجیودھون نے اصرار کے ساتھ کہا کہ ہندو فریق کا موقف یہی ہیکہ ملک بھر میں 500 مساجد کی کھدائی کی جائے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہیکہ ہندو مندروں پر بنائی گئی ہیں۔ قبضہ بالجبر کی بحث کا جواب دیتے ہوئے راجیو دھون نے عدالت عظمیٰ سے کہا کہ ’’زبردستی قبضہ کا دعویٰ کب کیا گیا۔ کیا آیا یہ 1885ء کے بعدکسی وقت کیا گیا تھا؟۔ انہیں (ہندو فریقوں کی) ان کے وعدے کے مطابق یہ قبضہ ثابت کر دکھانا چاہئے۔ وہ (ہندو فریق) محض یہ کہتے ہوئے بچ نہیں نکل سکتے کہ اس مقام پر مسلمان عبادت نہیں کرسکتے۔ یہ کوئی قبضہ نہیں ہے‘‘۔ دھون نے استدلال پیش کیا کہ الہ آباد ہائیکورٹ دراصل اسلامی قوانین کو غلط سمجھا ہے کیونکہ انہیں صحیح سمجھنے کیلئے کافی وسیع تر علم و معلومات درکار ہیں۔ دھون نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مندروں کیلئے امداد و نذر دی تھی اور اب مسلمان چاہتے ہیں کہ انہیں بھی وہ مسجد واپس دی جائے جو انہدام سے قبل وہاں موجود تھی۔