میونسپل نظام آباد میں کانگریس کی کامیابی میں ڈی سنجے کا اہم کردار تصور کیاجارہا ہے
نظام آباد۔ 17 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام آباد میونسپل انتخابات میں کانگریس پارٹی کی کامیابی میں سابق میئر دھرمپوری سنجے کا کردار نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے وسیع سیاسی تجربہ اور بلدی نظم و نسق پر مضبوط گرفت نے انتخابی نتائج پر واضح اثر ڈالا۔ انتخابات سے قبل انہوں نے عوام سے ہندو مسلم اتحاد برقرار رکھنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو مسترد کرنے کی اپیل کی تھی جس کا شہر کے مختلف طبقات پر مثبت اثر دیکھا گیا اور کانگریس پارٹی کو 17 نشستیں حاصل ہوئیں جس سے بلدیہ میں اقتدار کے حصول کیلئے پارٹی کو مضبوط بنیاد میسر آئی۔سابق میئر کی حیثیت سے شہر کے ہر وارڈ سے واقفیت اور مضبوط زمینی نیٹ ورک نے انتخابی مہم کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے غیر فعال کیڈر کو دوبارہ متحرک کرتے ہوئے ووٹروں سے براہ راست رابطے بحال کئے اور پارٹی کے روایتی حمایتی طبقات کو دوبارہ متحرک کیا۔ ریاستی قیادت کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر انتخابی حکمت عملی تک تمام اُمور کی نگرانی کی اور ناراض قائدین کو قائل کرتے ہوئے پارٹی صفوں میں اتحاد برقرار رکھا۔اس انتخاب میں ایک جانب ان کے بھائی اور بی جے پی قائد دھرمپوری اروند جبکہ دوسری جانب کانگریس کے دھرمپوری سنجے کے درمیان سیاسی مقابلہ شہر کی سیاست میں غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنا۔ تاہم بالآخر سنجے کی حکمت عملی اور تنظیمی نظم و ضبط کانگریس کی کامیابی پر منتج ہوا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف بلدیاتی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ مستقبل میں ضلع اور ریاستی سیاست میں بھی دھرمپوری سنجے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔