رکن پارلیمان نظام آباد ڈی اَروند کی پولنگ مراکز پر مداخلت
نظام آباد۔ 11 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند ہمیشہ ہندو مسلم کی سیاست کرتے ہوئے سرخیوں میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں آج بھی شہر نظام آباد کے ڈیویژن نمبر 34 ہری چرن مارواڑی اسکول میں پولنگ عملہ اور پولیس والوں سے بحث و مباحث کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ پولنگ عملہ نے امیدواروں کو آنے سے روکنے کی کوشش کی تو پولنگ عملہ پر برسنا شروع کیا اور کہا کہ کیا اختیار ہے امیدواروں کو کیوں نہیں پولنگ بوتھ کے اندر جانے سے کیوں روکا جارہا ہے کہتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور پولنگ بوتھ کے اندر جاکر عملہ کو واضح طور پر یہ ہدایت دی کہ برقعہ پوش مسلم خواتین کو چہر بغیر دیکھے ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے ۔ اسی طرح پولنگ عملہ پر بھی برستے ہوئے فرضی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے لہٰذا کسی کو بھی فرضی ووٹ ڈالنے کی کوشش کو کامیاب ہونے نہ دیں۔ رکن پارلیمنٹ نے غیر مجاز طور پر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوکر ہنگامہ کرتے ہوئے پولنگ عملہ پر برستے ہوئے دیکھا گیا ۔ اسی طرح یہاں پر ڈیوٹی پر تعینات پولیس عہدیداروں کو بھی بی جے پی کے امیدوار کو باہر جانے کیلئے کہنے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ان کے ساتھ بھی جھگڑتے ہوئے دیکھا گیا ۔ رکن پارلیمنٹ نے آج بھی ہندو مسلم کے ذریعہ ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن شہر میں مختلف مقامات پر پرُ امن طور پر رائے دہی دیکھی گئی ۔