شاہین باغ احتجاج پر تنقید ، وزیراعظم مودی کی قیادت میں رام مندر کی تعمیر یقینی ، طلاق ثلاثہ ، آرٹیکل 370 برخاست
نئی دہلی۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ نے کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی (ہندوؤں) کو چوکس رہنا ہوگا، ورنہ اس ملک میں ’’مغلوں کا راج‘‘ دوبارہ آئے گا۔ انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں جاری احتجاج پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر ہندو چپ رہیں گے تو پھر ملک مغلوں کے حوالے ہوجائے گا۔ وہ صدرجمہوریہ کے خطبہ پر لوک سبھا میں تحریک تشکر کے مباحث میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف شاہین باغ احتجاج کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک اکثریتی طبقہ چوکس رہے گا، یہ ملک محفوظ رہے گا اور وہ دن دور نہیں جب ملک پر مغل دوبارہ راج کریں گے۔ ان کے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی ایم پی سوریہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے باعث ہی یہ ملک محفوظ ہے۔ انہوں نے مودی کی ستائش کی کہ انہوں نے کئی نازک مسئلہ کو حل کیا ہے جو کئی دہوں سے زیرالتواء تھے۔ سی اے اے بھی ان مسائل میں سے ایک ہے جو تقسیم ہند کے بعد سے باقی رہ گئے تھے۔ سی اے اے کے ذریعہ تقسیم ہند کے بعد کے تمام مسائل کو حل کرلیا جائے گا۔ ماضی کے زخموں کو مندمل کئے بغیر نئے ہندوستان کی تعمیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ظلم کا شکار اقلیتوں کو شہریت دینے کے لئے ہے۔ اس قانون کے ذریعہ کسی بھی شہری کی شہریت نہیں چھینی جائے گی۔ سوریہ نے کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ماضی کے کئی نازک مسائل حل ہوئے ہیں۔ مودی نے تمام مسائل کو ختم کردیا۔ ان میں آرٹیکل 370، رام مندر کی تعمیر، بوڈو مسائل کی یکسوئی اور طلاق ثلاثہ کا خاتمہ شامل ہیں۔ اس بحث کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے کے سدھاکرن نے کہا کہ ملک ایک ایسے وقت سے گذر رہا ہے جہاں معیشت تباہ ہورہی ہے اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ ان مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ صدرجمہوریہ نے اپنی تقریر میں سال 2024ء تک ملک کی معیشت کو 5 کھرب امریکی ڈالر میں تبدیل کرنے کی بات کی ہے جبکہ یہ معیشت جھکولے کھا رہی ہے۔ ملک کی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہونے سے متعلق حکومت کے نمائندوں کے دعوؤں پر سدھاکرن نے کہا کہ اس طرح کا تاثر سابق صدر امریکہ جارج بش نے بھی دیا تھا اور اس کے بعد امریکی معیشت گر گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں سدھاکرن نے یہ بھی کہا کہ شدید دباؤ سے قبل صدر امریکہ نے اپنے ملک کی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط قرار دیا تھا۔ لیکن کچھ دن بعد امریکی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوگئی تھی۔ اسی لب و لہجہ میں بی جے پی حکومت بھی ہندوستانی معیشت کو مضبوط بتارہی ہے۔ اپنا دَل کی انو پریہ پاٹل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آل انڈیا جوڈیشیل سرویس کمیشن تشکیل دے تاکہ عدلیہ میں پسماندہ طبقات کی نمائندگئی کو یقینی بنائی جاسکے۔
