ہندو ہندی کی سیاست پر راج ٹھاکرے کی سرزنش

   

پریاگ راج : جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ہندی پر حالیہ تنازعہ ابھی پوری طرح سے تھم نہیں پایا تھا کہ اب مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کے ’ہندو اور ہندی‘والے بیان پر سنتوں نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں تنازعات سے بچنے کا مشورہ دیا۔ شرنگاور پور پیٹھادھیشور جگد گرو رامانوجچاریہ سوامی نارائن چاریہ شانڈیلیا مہاراج نے راج ٹھاکرے اور شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کو ہندی زبان پر سیاست نہ کرنے کی سخت وارننگ دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ٹھاکرے برادران بھارت ماتا اور ہندو اور ہندی کے خلا ف زہر اگلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں بھی مہاراشٹر سے باہر جانا پڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو مغل دور میں اُن کی چاپلوسی کرتے تھے ۔ اگر آج چھترپتی شیواجی مہاراج زندہ ہوتے تو وہ بھی اس بیان پر شرمندہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندی سے ہندو ہے اور ہندو سے ہندی ہے ۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ شانڈیلیا مہاراج نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہندی زبان بہترین تھی اور بہترین رہے گی۔ انہوں نے راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کو ہندی زبان پر سیاست نہ کرنے کی سختی سے تنبیہ کی اور تاکید کی کہ وہ ہندی زبان سے متعلق کسی بھی قسم کے تنازعہ سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی بھی ہماری زبان ہے اور ہم نے اسے کبھی مختلف نہیں سمجھا لیکن ہندی کے ساتھ امتیازی سلوک ٹھاکرے برادران کی کرپٹ ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔