’ہندی نے شمالی ہندوستان کی 25 زبانوں کو نگل لیا‘

   

ہندی کے نام پر سنسکرت تھوپنے کی سازش ،لسانی تنازعہ پرچیف منسٹر ٹاملناڈو اسٹالن کی مرکز پر شدید تنقید

نئی دہلی: قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) پر سیاسی ہنگامہ جاری ہے۔ NEP کے تحت ‘سہ لسانی’ پالیسی پر تنازعہ ہے۔ پالیسی یہ ہے کہ ملک کا ہر طالب علم تین زبانیں سیکھے گا۔ ان میں سے دو مقامی ہندوستانی زبانیں ہوں گی اور ان میں سے ایک علاقائی زبان ہوگی۔ تیسری زبان انگریزی ہو گی۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے اسے مرکزی حکومت کی ہندی کو مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اسٹالن نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ ہندی نے پچھلے کچھ سالوں میں 25 شمالی ہندوستانی زبانوں کو نگل لیا ہے۔اسٹالن نے X پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، ‘ایک ہندی زبان کو مسلط کرنے کی کوشش قدیم زبانوں کی موت کا باعث بنتی ہے۔ یوپی اور بہار کبھی بھی صرف ہندی بولنے والے علاقے نہیں تھے۔ ان کی اصل زبانیں اب قصہ پارینہ بن گئیں۔ اسٹالن نے اس معاملے میں ایک خط بھی لکھا ہے، جسے انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ شیئر کیا ہے۔اسٹالن نے الزام لگایا کہ زبان مسلط کرنے کے اس کھیل میں ‘ہندی صرف ایک مکھوٹہ ہے، اصل چہرہ سنسکرت کا ہے۔’ انہوں نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ ‘ہندی کو ملک کی واحد زبان کہنا اور دیگر زبانوں کو کمتر سمجھنا لسانی تنوع کو مٹانے کی دانستہ کوشش ہے۔اسٹالن نے کئی زبانوں کا نام دیا جو اب مبینہ طور پر معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ ان میں بھوجپوری، میتھلی، اوادھی، برج، بنڈیلی، گڑھوالی، کماونی، مگہی، مارواڑی، مالوی، چھتیس گڑھی، سنتھلی، انگیکا، ہو، کھریا، کھرتھا، کڈملی، کروکھ جیسی زبانیں شامل ہیں۔ ڈی ایم کے سربراہ نے کہا، ہندوستان کی 25 سے زیادہ زبانیں ہندی-سنسکرت زبانوں کے تسلط کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ صدیوں پرانی دراوڑی تحریک نے تامل اور اس کی ثقافت کو بچایا ہے کیونکہ اس نے بیداری پیدا کی اور بہت سی تحریکیں چلائیں۔اسٹالن نے نئی تعلیمی پالیسی کو بی جے پی کی جانب سے ہندی کو مسلط کرنے کی ’منصوبہ بند‘ کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اتر پردیش کے پریاگ راج میں منعقدہ مہا کمبھ میں، جہاں ملک بھر سے اور مختلف ثقافتوں کے لوگ آئے تھے، کیا سائن بورڈ غیر ہندی زبانوں میں لگائے گئے تھے؟ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین کے آٹھویں شیڈول میں 22 سرکاری زبانیں درج ہیں لیکن پھر بھی کئی زبانوں کو اس میں جگہ نہیں ملی ہے۔ اسٹالن نے الزام لگایا کہ مرکز کا مقصد اتحاد نہیں ہے بلکہ مرکزیت کے نام پر لسانی تنوع کو منظم طریقے سے ختم کرنا ہے۔