ہند۔آسٹریلیا آج تیسرے ٹسٹ کا آغٓاز

   

اندور۔ ہندوستان سے توقع ہے کہ وہ ایک اور سیریز میں جیت کے ساتھ اپنے گھر پر ناقابل تسخیر ہونے کی ریکارڈ میں اضافہ کرے گا جبکہ آسٹریلیا کو یہاں چہارشنبہ کو شروع ہونے والے تیسرے ٹسٹ میں واپسی کے لیے ایک یادگارکوشش سے کم کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہندوستان نے پہلے ہی بارڈر۔ گواسکر ٹرافی حاصل کر لی ہے اور اب وہ گھر پر مسلسل 16 ویں سیریز جیتنے اور جون میں ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں ایک یقینی جگہ کے لیے کھیلے گا۔ چار میچوں کی سیریز میں 2-0 کی برتری کے ساتھ، ہندوستان کافی اچھے موقف میں ہے اور اسے آؤٹ آف فارم کے ایل راہول اور شبمن گل کے درمیان انتخاب کرنے کا صرف ایک سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ راہول اب ٹیم کے نائب کپتان نہیں ہیں لیکن ٹیم انتظامیہ نے ان پر زبردست اعتماد ظاہرکیا ہے اور انہیں رنزکے قحط درمیان واپس آنے کا ایک اور موقع مل سکتا ہے۔سیریز کی واحد سنچری، جس پر اسپنرز کا غلبہ رہا ہے، روہت شرما کے بیٹ سے آئی ہے۔ اگر ہندوستان پہلے دن بیٹنگ کرتا ہے تو، چیتشور پجارا اور ویراٹ کوہلی جیسے کھلاڑیوں کے لیے رنز کے ڈھیر لگانے کے لیے حالات مثالی ہوں گے۔ رویندرا جڈیجہ، روی چندرن اشون اور اکشر پٹیل کی تینوں نے نہ صرف گیند سے مظاہرہ کیا ہے بلکہ انہوں نے سیریز میں اب تک زیادہ تر رنز بھی بنائے ہیں۔ چونکہ ان سے نچلے آرڈر میں باقاعدگی سے رنز حاصل کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی، اس لیے ذمہ داری ٹاپ آرڈر پر ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کے ناقابل فہم سویپنگ حربوںکے برعکس، ہندوستانی بیٹرس نے متاثرکن آسٹریلیائی اسپنرز کے خلاف روایتی انداز اپنایا ہے۔ ہولکراسٹیڈیم کے اسکوائر میں سیاہ اور سرخ دونوں مٹی کے ساتھ پچیں موجود ہیں۔کیوریٹرز نے کالی مٹی کی پیچ کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو عام طور پر سرخ مٹی کی پچوں کے مقابلے میں زیادہ موڑ اور اچھال پیش نہیں کرتی ہے۔ شکست خوردہ حریف آسٹریلیا کے پاس ناگپور اور دہلی میں اپنی شکستوں پر غورکرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ دہلی میں ہونے والی شکست، جہاں وہ سیشن میں مؤثر طریقے سے کھیل ہا گئے، زیادہ تکلیف دہ ہونا چاہیے۔ان کی اسکواڈ کی ساخت کے لحاظ سے، پیٹ کمنزکے آسٹریلیا میں رہنے کے بعد ایشٹن اگر، جوش ہیزل ووڈ اور ڈیوڈ وارنر بھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیو اسمتھ ٹیم کی قیادت کریں گے۔