آرٹیفشل انٹلیجنس اور سائبر سیکوریٹی اہمیت کے حامل، یو ایس انڈیا ٹرسٹ پر حیدرآباد میں کانفرنس، امریکی کونسل جنرل لارا ولیمس اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد ۔30 ۔ جنوری (سیاست نیوز) امریکہ اور ہندوستان کے درمیان آرٹیفشل انٹلیجنس ، سائبر سیکوریٹی اور دیگر شعبہ جات میں اشتراک کو فروغ دینے کے لئے حیدرآباد میں واقع امریکی کونسلیٹ اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جانب سے یو ایس۔ انڈیا ٹرسٹ کے موضوع پر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اعلیٰ عہدیداروں ، ماہرین تعلیم اور صنعت کاروں نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ ریسرچ ، بائیو ٹکنالوجی ، اینرجی ، سیمی کنڈکٹر ، تعلیم اور دیگر شعبہ جات کی نشاندہی کرتے ہوئے تعاون کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی نے فروری 2025 میں مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کرتے ہوئے تعاون کے فروغ کا فیصلہ کیا تھا ۔ دونوں سربراہوں کے طئے شدہ ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے کانفرنس کے مندوبین نے اظہار خیال کیا۔ حیدرآباد میں امریکی کونسل جنرل لارا ولیمس نے کہا کہ دونوں ممالک قومی سلامتی اور معاشی شعبہ جات میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یو ایس انڈیا ٹرسٹ کے اہتمام سے تعاون کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عصری ٹکنالوجی کے دور میں دونوں ممالک نے دفاع اور دیگر شعبہ جات میں اشتراک کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین ورلڈ ٹریڈ سنٹر ورا پرساد ریڈی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید استوار کرنے کیلئے مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ صنعتی اور تجارتی سطح پر تعلقات کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر جیمس لارمس نے کلیدی خطبہ دیا جس میں دونوں ممالک کی یونیورسٹیز کے درمیان ریسرچ ، اسکل ڈیولپمنٹ اور ٹکنالوجی پارٹنرشپ میں اشتراک کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں شرکاء نے دونوں ممالک کی یونیورسٹیز کے درمیان طلبہ اور ریسرچ کے تبادلہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ کانفرنس میں پیانل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے دونوں حکومتوں کے لئے کامیاب پارٹنرشپ کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء نے مستقبل میں بھی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بہتر روابط کی امید ظاہر کی۔ صدرنشین تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن پروفیسر بالا کشٹا ریڈی نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں عصری تقاضوںکی تکمیل پر زور دیا اور کہا کہ اس معاملہ میں دونوں ممالک کے تعلیمی ادارے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اصلاحات پر عمل کیا ہے ۔1
نصاب پر نظرثانی کے علاوہ طلبہ کو انڈسٹریل ٹریننگ کیلئے ناسکام اور بی ڈی ایم اے جیسے اداروں کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ پر توجہ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے عالمی صنعتی اداروں پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ میں اپنی سرگرمیوں کو توسیع دیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی یونیورسٹیز مختلف شعبہ جات میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں۔