ناگپور،20 جنوری (پی ٹی آئی) ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریزکا آغاز چہارشبنہ کو ہو رہا ہے، جو آئندہ تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل دفاعی چمپئن ہندوستان کے لیے آخری بڑا امتحان ثابت ہوگی۔ اس سیریز میں ہندوستانی کپتان سوریاکمار یادو نہ صرف اپنی جارحانہ بیٹنگ بلکہ قیادت کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہیں گے۔ سال 2024 میں ٹی 20 ٹیم کی کپتانی سنبھالنے کے بعد سوریاکمار یادو کے نتائج شاندار رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے25 میں سے 18 ٹی ٹوئنٹی میچ جیتے ہیں، جس سے ٹیم کی کامیابی کا تناسب 72 فیصد سے زائد ہوا ہے۔ تاہم ان شاندار نتائج کے پیچھے کپتان کی اپنی خراب بیٹنگ فارم کافی حد تک چھپی رہی، جو اب تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم ایک منظم اور خودکار یونٹ کے طور پر ابھری ہے، جہاں آئی پی ایل کے تجربہ کارکھلاڑی اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اس دوران چند ناکامیوں کے سوا ٹیم کی کارکردگی متاثرکن رہی، لیکن گھریلو حالات میں ورلڈکپ خطاب کے دفاع کی توقعات سوریاکمار پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2025 سوریاکمار یادو کے لیے ہندوستانی جرسی میں بدترین سال ثابت ہوا۔ انہوں نے19میچوں میں صرف 218 رنز بنائے، بغیرکسی نصف سنچری کے، جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 123کے آس پاس رہا۔ مزید یہ کہ انہوں نے تلک ورما کو نمبر تین پر موقع دینے کے لیے خودکو نمبر چار پر کردیا، جو ان کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا ہے ۔ دنیا بھرکے بولرس اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ سخت لینتھ پر سیدھی گیندیں سوریہ کمار کو قابو میں رکھ سکتی ہیں، جبکہ ان کی دائیں کلائی کی حالت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ناکام کپتان آہستہ آہستہ ڈریسنگ روم میں اپنا اثرکھو دیتا ہے اور یہ صورتحال ممبئی کے چیمبور سے تعلق رکھنے والے اس جارحانہ بیٹرکے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تلک ورما کی ممکنہ عدم دستیابی کے باعث شریاس ایر اور ایشان کشن کے درمیان مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ شریاس ایر، جو تین آئی پی ایل فرنچائززکو فائنل تک لے جا چکے ہیں، اسپن بولنگ کے خلاف مضبوط بیٹرس سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری جانب جارحانہ اوپنر ایشان کشن پاور پلے میں ٹیم کو تیز آغاز فراہم کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ نمبر تین سے نیچے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ اس سیریز میں ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ کی واپسی بھی اہم ہوگی، جنہیں ونڈے سیریز میں آرام دیا گیا تھا۔ ہاردک ٹیم میں توازن پیدا کرتے ہیں، جبکہ بمراہ کی موجودگی بولنگ کو نئی جان بخشے گی۔ اس کے ساتھ ہی ورون چکرورتی کی شمولیت نیوزی لینڈ کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے خلاف کیویزکو کم تجربہ حاصل ہے۔ دوسری جانب تاریخ میں پہلی مرتبہ ونڈے سیریز میں کامیابی سے نیوزی لینڈ کے حوصلے بلند ہیں۔