ہند۔پاک سیریز وقت کی اہم ضرورت :راشد

   

کراچی۔11اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے کہا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کر کٹر کو صرف ڈومیسٹک کر کٹ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے، پاکستان کی جرسی پہننے کی دوبارہ اجازت دینا مناسب نہیں۔ فاسٹ بولر عامر کی واپسی کے وقت بھی میرایہی موقف تھا اور شرجیل کے بارے میں بھی یہی رائے ہے، شرجیل کی ٹیم میں واپسی کے حق میں نہیں۔ کراچی میں میڈیا سے آن لائن بات چیت میں سابق کپتان نے کہا کہ فکسنگ اور دیگر مسائل میں ہمیشہ صرف کرکٹرز ہی پھنس جاتے ہیں۔ بورڈ عہدیداران صاف ستھرے ہیں ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا، ان پر بھی نظر ہونی چاہیئے۔ سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ میچ فکسنگ پر آئی سی سی کے قوانین کھلاڑیوں کو سزا مکمل کرکے واپسی کی اجازت دے دیتے ہیں، بورڈز تو ان قوانین کو ہی مانے لیکن ملک کے قوانین میں ترمیم لانا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی ملکوں نے میچ فکسنگ کو باضابطہ جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی ہے لہٰذا پاکستان میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت آئے گا جب بہت سی باتوں سے پردہ اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے پی سی بی نے بغیر کسی منصوبے کے ڈپارٹمنٹل کرکٹ بند کردی جس کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پی سی بی کو چاہیے کہ فیصلے پر نظر ثانی کرکے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو بحال کرے ، اس سے پاکستان کرکٹ کا ہی فائدہ ہوگا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کرکٹ سیریز وقت کی ضرورت ہے لیکن فیصلہ دونوں بورڈزکا اختیارنہیں، یہ حکومتوں کا معاملہ ہے۔ ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان ٹسٹ کرکٹ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سابق انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی پینشن 60 کی بجائے 45 سال سے شروع کی جائے کیوں کہ آج بھی ایسے سابق کرکٹر ز ہیں جو مالی طور پرکافی مشکلات میں ہیں، وہ شاید دیکھنے میں ٹھیک نظر آتے ہوں لیکن ان کا مستقل ذریعہ آمدن کوئی نہیں، پی سی بی کو ان کا بھی سوچنا چاہیے۔