ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ، امیر جماعت اسلامی سعادت اللہ حسینی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف معاہدہ مختلف شعبہ جات پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی اور نائب امیر جناب ملک معتصم خاں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے بارے میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس معاہدہ سے متعلق تفصیلات سوشیل میڈیا رپورٹس اور امریکی حکام کے بیانات کے ذریعہ منظر عام پر آرہی ہیں۔ امریکی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے جبکہ امریکہ ہندوستانی برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ معاہدہ کے توازن پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت جس معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کررہی ہے وہ دراصل پہلے سے موجود شرحوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جماعت اسلامی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی ٹیرف سے ابھی تک محفوظ زرعی شعبہ کو امریکہ کے لئے کھولنا ہندوستانی کسانوں کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔1