ہند۔ امریکہ تعلقات : عزم اور کارنامہ

   

کینیتھ آئی جسٹر
سفیر امریکہ برائے ہند

دنیا بھر میں کوئی بھی باہمی تعلقات اتنے وسیع پیچیدہ اور مواد سے مالا مال نہیں جتنے کہ امریکہ اور ہندوستان کے ہیں۔ ہم دفاع دہشت گردی کا مقابلہ، سائبر سیکوریٹی، تجارت، سرمایہ کاری، برقی توانائی، ماحولیات، صحت، تعلیمات، سائنس و ٹکنالوجی، زراعت، خلاء اور بہت سارے شعبوں میں باہمی تعاون کرتے ہیں۔ حکمت عملی پر مبنی ہماری شراکت داری میں گزشتہ 20 برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ سابقہ برسوں میں ہمارے عزم اور کارنامہ کا ثبوت ملتا ہے۔

ہمارا سفارتی تعاون امریکہ سے شروع ہوتا ہے جو ہندوستان کی ترقی اور مشترکہ بصیرت کا پابند ہے۔ ہمارا مشترکہ اور آزاد نظریہ ہند ۔ بحرالکاہل علاقہ کے بارے میں ہے۔ ہند ۔ بحرالکاہل نظریہ کئی سال سے تشکیل پانے کے مراحل میں تھا۔ گزشتہ 4 سال کے دوران ہمارے ممالک نے اس خواب کو حقیقت بنانے کی جدوجہد کی ہے۔ امریکہ اور ہند ۔ بحرالکاہل سے اس عزم کو حقیقت بنانے کی جدوجہد کا ثبوت ملتا ہے۔ امریکہ کے لئے ہند ۔ بحرالکاہل کا مطلب یہ ہیکہ عظیم تبدیلیوں اور چیالنج کے دور میں ہم ہندوستان کو اپنا ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں جو امن اور خوشحالی کے تحفظ اور توسیع کے سلسلہ میں ہے، جس نے اس علاقہ میں تحریک پیدا کی ہے۔

ہم ہم خیال ممالک کے ساتھ اس علاقہ کی تعمیر کے لئے معمار کے طور پر تعاون کرتے ہیں۔ آسیان برادری کو خاص طور پر تائید فراہم کرتے ہیں۔ ہماری سہ فریقی چوٹی کانفرنسیں (2018-29 میں جاپان کے ساتھ) اور چار فریقی وزارتی (جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ 2019-20 میں) عظیم تعاون کا ثبوت ہیں جن میں بحری دور کی صیانت، وباؤں کے انتظام، علاقائی روابط، انسانی بنیاد پر امداد اور تباہ کاری کے دوران راحت رسانی اور سائبر سیکوریٹی شامل ہیں۔ ہمارا سفارتخانہ آئندہ 5 سال تک اور اس کے بعد بھی مزید کوشش کرتا رہے گا اور ٹھوس تائید فراہم کرے گا تاکہ تمام علاقائی ممالک ہماری خود مختاری اور نظم و ضبط پر مبنی حکمرانی کو تسلیم کریں۔
بحیثیت امریکہ کے سفیر اور ہندوستان کی امن اور سفارتکاری سے وابستگی کے طور پر گزشتہ 4 سال کے دوران ہم نے ایک مقصد کے تحت دفاع اور صیانت میں تعاون کیا ہے تاکہ ہمارے ممالک محفوظ رہ سکیں اور اپنی سرحدوں سے ماورا صیانت فراہم کرسکیں۔

ہماری باہمی دفاع اور صیانت کے شعبوں میں شراکت داری ستمبر 2018 سے ایک اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے جس کا آغاز 2+2 وزارتی مذاکرات امریکہ اور ہندوستان کے محکمہ دفاع اور خارجہ پالیسی کے قائدین کے ساتھ ہوا تھا۔ ہم نے تین ایسے وزارتی سطح کے مذاکرات کئے ہیں اور کلیدی دفاعی معاہدات تمام قائدین نے کئے ہیں۔ ایسے ہی تین چوٹی کانفرنسیں اور دفاعی معاہدے ہوچکے ہیں جس سے ہماری افواج اور دفاعی صنعتوں کو فروغ حاصل ہوا۔ ہم نے فوجی مشقوں میں ٹھوس اضافہ کیا ہے جس میں پہلی بار سہ فریقی مشقیں 2019 میں آسٹریلیا کی ملابار بحریہ کی فوجی مشقوں میں شرکت سے ہوا جس نے جاپان کے ساتھ شرکت کی گئی تھی۔
ان مشقوں اور دیگر کارناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی بھی ملک دفاعی شراکت داری اتنی مضبوط قائم نہیں کرسکتا جیسا کہ امریکہ کی ہندوستان کے ساتھ شراکت داری ہے یا اتنا حصہ ادا نہیں کرسکتا جتنا کہ ہندوستانیوں کے تحفظ کے لئے امریکہ نے ادا کیا ہے۔ ہمارا قریبی تعاون ہندوستان کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ سرحد پر چین کی سرگرمی کا ہندوستان نے مقابلہ کیا ہے۔

ہمیں اسی سطح کے عزم کی معاشی دائرہ میں بھی ضرورت ہے جہاں ہماری تجارت اور سرمایہ کاری بڑھتی ہی جارہی ہے لیکن اب بھی مکمل امکان کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ 2019 میں اشیاء اور خدمات کے شعبہ میں باہمی تجارت میں 146.1 ارب ڈالرس سے زیادہ کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ 2001 میں اس کی مالیت 20.7 ارب ڈالر تھی۔ ہندوستان کی جملہ برآمدات کا تقریباً 16 فیصد حصہ اب امریکہ کے ذمہ ہے۔ امریکہ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ہندوستان امریکہ کا 12 واں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ پس نوشت یہ ہے کہ دیگر ممالک میں ملازمتوں کے مواقع صارفین کے انتخابی مواقع ٹکنالوجی کا امتزاج اور معاشی بہتری اتنی نہیں ہوئی جتنی کہ ہندوستانیوں کی ہوئی ہے۔
دوسرا اہم ستون باہمی شراکت داری کا برقی توانائی کے شعبہ میں ہے جہاں ہم نے نمایاں نتائج گزشتہ 4 سال کے دوران حاصل کئے ہیں۔ ہم نے دفاعی توانائی کی شراکت داری کا 2018 میں دونوں حکومتوں کی مدد سے آغاز کیا۔ امریکہ اب برقی توانائی کا ہندوستان کے لئے منبع ہے۔ 2019 تک ہندوستان سب سے بڑی برآمداتی منزل بن جائے گی اور امریکہ سے کوئلہ برآمد کرے گا۔ امریکہ کے خام تیل کی سب سے بڑی منزل بھی یہی ہوگی اور ساتویں سب سے بڑی امریکہ کی منزل سیال قدرتی گیس کے سلسلہ میں ہوگی۔ یہ تمام ہندوستان کے توانائی وسائل میں تنوع میں مدد کریں گے۔ آج 100 سے زیادہ امریکی کمپنیاں ہندوستان کے برقی توانائی کے شعبہ میں سرگرم ہیں اور اس شعبہ کے تمام عناصر میں کام کررہی ہیں۔
صحت اور حیاتیاتی ادویات و صحت دونوں ممالک کی اولین ترجیح ہیں۔ تعاون کی ہماری ایک کامیاب تاریخ ہے۔ تعاون اور مشترکہ ردعمل کووڈ ۔ 19 کی وباء کے سلسلہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکہ کے ماہرین کے مراکز برائے بیماری پر قابو پانے و انسداد کے سلسلہ میں ہندوستان کی کوششوں کی تکنیکی رہنمائی اور تربیت کے ذریعہ فراہم کرچکے ہیں۔ اس میں باہمی روابط پر عمل کرنا تشخیص، جانچ اور انفکشن کے انسداد میں مدد اور صحت کی سہولتوں پر کنٹرول کرنے کے ذریعہ سینکڑوں ہندوستانی گریجویٹس نے جنہوں نے سی پی سی تربیتی پروگرامس میں شرکت کی تھی ہندوستان کے اس وائرس کے خلاف جدوجہد میں آگے آگے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ اور ہندوستان کے سائنسداں ویکسین تیار کرنے کے لئے تعاون کرچکے ہیں اور کووڈ ۔ 19 کے علاج کے لئے بے حد تعاون بھی کرچکے ہیں۔ یہ صحت کے شعبوں میں ہمارے اور ہندوستان کے امکان کی حد تک پھیلا ہوا تعاون کا سلسلہ ہے۔ مزید محفوظ طبی سربراہی کے سلسلہ ہمارے صحت کے شعبہ میں تعاون کے ذریعہ امریکہ اور ہندوستان کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بناسکیں گے اور عالمی سطح پر بھی ایسا ہی ہوگا۔

ہماری جیسی عظیم جمہوریتوں کی حکومتوں نے عوامی جذبات کا احترام کیا ہے۔ ہمارے عوام سے عوام کے روابط مستحکم ہوئے ہیں اور ان سے ہماری دوستی کے لئے تحریک ملتی اور اس کا سرچشمۂ وجدان بنتے ہیں۔ اس سے ایک آزاد اور کھلا ہند۔ بحرالکاہل علاقہ تشکیل پائے گا۔ ان کارروائیوں کے نتیجہ میں امریکہ اور ہندوستان جامع عالمی دفاعی شراکت داری مستحکم، مثبت اور اسی راہ پر آگے بڑھنے میں مدد حاصل کرسکیں گے۔
مجھے فخر ہے کہ ہم نے گزشتہ چار سال میں یہ کارنامے کردکھائے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ امریکہ کے انتظامیہ کی جانب سے ہندوستانی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت جاری رہے گی اور حالیہ امریکی انتظامیہ میں سے ہر ایک کامیاب طور پر اس کام میں اپنے پیشرو سے زیادہ اضافہ کرے گا اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔