پیغام اتحاد، ایک بلین ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدہ کا تحفظ
یو ایس ، میکسیکو، کینیڈا ایگریمنٹ
(USMCA)
کا فروغ
یوروپ کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات ایجنڈہ کے دیگر نکات
واشنگٹن ۔ 27 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے شہر بیارٹیز میں ابھی ابھی اختتام پذیر ہوئی G-7 چوٹی کانفرنس میں جن پانچ نکات پر سب سے زیادہ غور و خوض کیا گیا ان میں پیغام اتحاد ، ایک بلین ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدہ کا تحفظ ، یو ایس ، میکسیکو ، کینیڈا ایگریمنٹ
(USMCA)
کا فروغ ، یوروپ کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات اور سب سے آخر میں ہند و پاک کے درمیان جموں و کشمیر کو لیکر پیدا ہوئے تازہ ترین مسئلہ اور کشیدگی میں کمی کے لئے بھرپور تعاون کرنا شامل ہیں ۔ ان نکات میں آخر الذکر نکتہ کو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل سمجھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہند و پاک کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کو کم کرنا یا بالکل ختم کردینا عالمی برادری کی ا ولین ترجیح ہونی چاہئے۔ صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ پیر کو ہی وطن جاچکے ہیں۔ یاد رہے کہ G-7 چوٹی کانفرنس کا انعقاد 24 تا 26 اگست کیا گیا تھا ۔ وائیٹ ہاؤس نے بھی مندرجہ بالا نکات کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے ہند و پاک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا۔ نریندر مودی سے اپنی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی ہند و پاک کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا جس پر نریندر مودی نے واضح طور پر کہا کہ ہند و پاک کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے کسی تیسرے فریق کو اس مسئلہ کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ ٹرمپ نے بعد ازاں ٹوئیٹ کیا تھا کہ ان کی نریندر مودی سے ملاقات ہوئی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی صاحب کا ماننا ہے کہ کشمیر میں صورتحال قابو میں ہے اور مجھے امید ہے کہ موصوف ضرور ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے کہ جو جموں و کشمیر کے حق میں بہتر ہوگا ۔ میرے دونوں ہی قائدین (مودی ۔ عمران) سے اچھے تعلقات ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں مل کر باہمی طور پر اس مسئلہ کو حل کرلیں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ قبل ازیں ٹرمپ نے ہند ۔ پاک کشیدگی میں کمی لانے ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں لیکن ہند و پاک نے ٹرمپ کی پیشکش کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ G-7 چوٹی اجلاس کے دوران بھی مودی اور ٹرمپ خوشگوار موڈ میں نظر آئے اور دونوں نے مودی کی انگریزی بول چال پر بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا جس پر صحافیوں نے بھی خوب قہقہے لگائے تھے ۔
