نیوکلئیر بموں کے دھویں سے آسمان پر تاریکی اور 10 سال تک دنیا بھر میں قحط سالی
حیدرآباد /4 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) جموں وکشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستوری دفعہ 370 کی تنسیخ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس عام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان کی تقاریر کے بعد نیوکلیر اسلحہ سے لیس دو دیرینہ حریف پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ہولناک اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ جس کے پیش نظر مغربی دنیا کے بعض سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں نے جنگ کے اندیشوں کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا کہ ہند و پاک کے درمیان نیو کلئیر جنگ کی صورت میں فی الفور 10 کروڑ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں قحط سالی پھیل سکتی ہے جس کی وجہ نیو کلئیر بم پھٹنے سے اُٹھنے والے سیاہ دھویں کے بادل تقریباً 10 سال تک سورج کے اطراف گردش کرتے رہیں گے ۔ جس سے کرہ عرض پر نیم تاریکی جیسا منظر رہے گا ۔ امریکہ کی کولوراڈو یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال دونوں پڑوسی ملکوں میں فی کس 150 نیو کلئیر اسلحہ موجود ہے ۔ 2025 تک ان کی تعداد فی کس 200 تک پہونچ سکتی ہے ۔ ایک ریسرچ اسکالر ایلن روباک نے کہا یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ یہ تحقیق ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے تنازعہ پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔