ٹوکیو؍نئی دہلی، 29 اگست (یو این آئی) ہندوستان اور جاپان نے جمعہ کو ٹوکیو میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے درمیان چوٹی کانفرنس کے بعد کئی معاہدوں اور مفاہمتوں پر دستخط کئے جس میں اگلی دہائی کے لیے مشترکہ وژن، ہندوستان میں جاپان کی طرف سے 10 ٹریلین ین کی سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے دو نوںممالک کے درمیان پانچ لاکھ افراد کے تبادلے کے منصوبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے عالمی شراکت داری کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو عالمی امن اور خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا۔ مودی نے کہاکہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں اور متحرک جمہوریتوں کے طور پر، ہماری شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کیلئے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی بہت اہم ہے ۔سربراہ اجلاس سے قبل وزیر اعظم مودی کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دستخط کیے گئے معاہدوں میں 8 شعبوں میں اقتصادی اور فعال تعاون کے لیے 10 سالہ اسٹریٹجک ترجیح شامل ہے جیسے کہ اقتصادی شراکت داری، اقتصادی سلامتی، نقل و حرکت، ماحولیاتی پائیداری، ٹیکنالوجی اور اختراع، صحت، عوام سے عوام کے رابطے اور اگلے دہائی کیلئے ہندوستان۔جاپان مشترکہ ویژن کے تحت ریاستی صوبائی مشغولیت۔ سیکورٹی تعاون کے مشترکہ اعلامیہ میں درج خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مدنظر رکھتے ہوئے عصری سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک۔ بھارت-جاپان ہیومن ریسورس ایکسچینج ایکشن پلان کے تحت ہندوستان اور جاپان کے درمیان پانچ لاکھ لوگوں کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا، خاص طور پر 50 ہزار ہنر مند اور نیم ہنر مند اہلکاروں کے تبادلے کو ہندوستان۔جاپان ہیومن ریسورس ایکسچینج ایکشن پلان کے تحت اگلے پانچ سالوں میں ہندوستان سے جاپان بھیج دیا جائے گا۔ مودی جاپان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے جمعہ کو ٹوکیو میں منعقدہ 15ویں ہندوستان-جاپان سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔