ہند ۔ جرمنی کے مابین 17 سمجھوتوں پرد ستخط ، مودی ۔ مرکل ملاقات ، دہشت گردی کیخلاف تعاون کیلئے صدر کووند کا زور

,

   

نئی دہلی ۔ یکم / نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر انجنیلا مرکل نے ہند ۔ جرمن بین حکومت مشاورت کے پانچویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی ۔ جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ’انتہائی قریبی تعلقات‘ کو مزید مستحکم بنانا ہے ۔ مرکل جو جمعرات کی شام پہونچی تھیں راج گھاٹ میں مہاتما گاندھی کی سمادھی پر پھول چڑھاتے ہوئے بابائے قوم کو خراج عقیدت ادا کیا ۔ مودی اور مرکل نے حیدرآباد ہاؤز میں ملاقات کی اس موقع پر دونوں ملکوں کے وزراء بھی موجود تھے ۔ بعد ازاں راویش کمار نے ٹوئیٹر پر اس ملاقات کی تصاویر جاری کی ۔
مرکل نے مودی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا ۔ دونوں ملکوں کے مابین 17 سمجھوتوں پر دستخطیں کی گئیں ۔ یہ سمجھوتے زراعت ، سمندر ٹکنالوجی ، ایوروید ، یوگا اور دیگر شعبوں میں تعاون سے متعلق ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین پانچ مشترکہ اعلامیہ جات کا تبادلہ بھی عمل میں آیا ۔ قبل ازیں جرمن چانسلر انجنیلا مرکل کا راشٹرپتی بھون میں روایتی استقبال کیا گیا ۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے جرمنی مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہند ۔ جرمنی تعلقات پیشرفت کررہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں ۔ صدر کووند نے کہا کہ دونوں ہی ممالک اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے مساویانہ حقدار و دعویدار ہیں ۔ دونوں ممالک کو ایک ہمہ رخی باہمی نظام اور ہمہ گیریت کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہئیے ۔

کشمیر کی صورتحال غیر مستقل، تبدیلی یقینی: چانسلر جرمنی
نئی دہلی ۔ یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کی صورتحال مستقل نہیں ہیں اور یقینی طور پر تبدیلی ہوگی۔ چانسلر جرمنی انجیلا مرکل نے جمعہ کے دن اپنے بیان میں یہ بات کہی۔ وہ نئی دہلی میں ایک محدود پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ قبل ازیں اُنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مختصر وقت کے لئے دوبدو ملاقات کی تھی اور پانچویں بین حکومتی مشاورت اجلاس کی مشترکہ صدارت کی تھی۔ تاہم اُنھوں نے کہاکہ وادیٔ کشمیر کی صورتحال پر کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوا۔ ذرائع کے بموجب میرکل کو توقع ہے کہ وزیراعظم مودی کے جموں و کشمیر کے بارے میں منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوسکے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ فی الحال (کشمیر میں) صورتحال مستقل نہیں ہیں اور نہ ہی اچھی ہے لیکن اِس میں تبدیلی یقینی ہے۔ جرمن چانسلر کا یہ بیان اُن اندیشوں کے پیش نظر منظر عام پر آیا ہے جو غیر ملکی ارکان مقننہ بشمول امریکہ نے ظاہر کئے ہیں کہ دستور ہند کی دفعہ 370 کی تنسیخ سے پہلے عبوری حکومت قائم کی جانی چاہئے تھی۔ قبل ازیں وفود کی سطح پر تفصیل سے بات چیت ہوچکی تھی۔ دونوں قائدین نے محدود وقت کے لئے باہم ملاقات کی جو وزیراعظم کی سرکاری قیامگاہ پر منتخبہ وزراء اور عہدیداروں کی موجودگی میں ہوئی تھی جس کا تعلق دونوں ممالک سے تھا۔ اجلاس میں شریک وزیر خارجہ جئے شنکر، مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول، معتمد خارجہ وجئے گوکھلے ہندوستان کی جانب سے شریک تھے۔