سڑکوں کی تعمیر اور چین کے انفراسٹرکچر سے لوہا منوانے ہندوستانی کوشش جھڑپوں کی وجہ : فوجی ماہرین
وادیٔ گلوان ۔19 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی افواج کا کہنا ہیکہ پیر کے روز چین کے ساتھ ایک متنازعہ سرحدی علاقہ میں ہوئی جھڑپ میں اس کے (ہندوستان) 20 فوجی شہید ہوئے جسے چین کے ساتھ ہندوستانی فوج کی انتہائی ہلاکت خیز جھڑپ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہ جھڑپیں لداخ کے گلوان خطہ میں ہوئیں جو مغربی ہمالیائی علاقہ میں واقع ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں مئی کے مہینہ سے دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ یہ وہ دوردراز علاقہ ہے جو کوہستانی اور تیز بہنے والے دریاؤں کے درمیان واقع ہے جو اقصائی چن سطح مرتفع سے قریب ہے جس پر ہندوستان اپنا دعویٰ پیش کرتا رہا ہے جبکہ اس علاقہ پر حکومت چین کی ہے۔ مذکورہ علاقہ 1400 فیٹ عرض البلد پر واقع ہے جہاں کا درجہ حرارت اکثر و بیشتر صفر درجہ سے بھی نیچے رہتا ہے۔ 1993ء میں دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدہ کے تحت یہ طئے پایا تھا کہ لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر دونوں ممالک اپنی فوج کا استعمال نہیں کریں گے لیکن یہ بھی ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اس کے باوجود دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان کئی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں لیکن حیرت انگیز طور پر ان جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے کبھی کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آخر یہ جھڑپیں اب کیوں ہورہی ہیں۔ ہمالیائی سرحد جو دونوں ممالک کے درمیان 4056 کیلو میٹر کا احاطہ کرتی ہے اور دونوں ہی ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کے کافی بڑے حصہ پر اپنا دعویٰ پیش کرتے رہتے ہیں۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہیکہ جھڑپوں کی سب سے اہم وجہ ہندوستان کا چین سے نقل و حمل کے رابطوں کو بہتر بنانا، سڑکوں اور ایئرفیلڈس کی تعمیر کرنا ہے تاکہ چین کے اعلیٰ سطحی انفراسٹرکچر کے مقابلے اپنی جانب کے ایل اے سی پر اپنے انفراسٹرکچر کو معیاری برقرار رکھ سکے۔30 مئی 2020ء تک ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تمام پروگراموں کے تحت بیروزگاری بھتہ حاصل کرنے والوں کی تعداد 29.1 ملین تھی جو اس کے گذشتہ ہفتہ کی تعداد سے 375,522 کم تھی۔