ہنمنت رائو پارٹی میں نظرانداز کیے جانے سے ناراض

   

Ferty9 Clinic

20 اگست کے بعد حکمت عملی طے کرنے کا اعلان، راہول گاندھی سے ملاقات کا وقت نہ ملنے کی شکایت

حیدرآباد۔9 اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے پارٹی میں نظرانداز کیے جانے کی شکایت کی اور کہا کہ وہ راجیو گاندھی کی جینتی تقاریب یعنی 20 اگست کے بعد پارٹی میں برقراری کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ ہنمنت رائو جیسے گزشتہ چھ ماہ سے صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں۔ لیکن انہیں مایوسی کاسامنا کرنا پڑا۔ وہ ان دنوں ہائی کمان سے ملاقات کے لیے نئی دہلی میں ہیں۔ بھونگیر کے حاجی پور میں عصمت ریزی اور قتل کے متاثرہ خاندانوں کو پرینکا گاندھی ملاقات کرانے کے مقصد سے ہنمنت رائو دہلی میں ہیں لیکن ان کے مکتوب کے باوجود پرینکا گاندھی نے ملاقات کا وقت نہیں دیا اور نہ ہی جواب دیا۔ اس صورتحال سے مایوس ہوکر ہنمنت رائو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ راہول گاندھی کے سیاسی صلاح کاروں نے ملاقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی نے وفادار قائدین کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں سینئر قائدین پارٹی میں برقراری کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ انہوں نے حیدرآباد اور نئی دہلی کے علاوہ دیگر ریاستوں میں انچارج کی حیثیت سے کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالی۔ پارٹی کے موجودہ کئی قائدین ان کی سیاسی سرپرستی کے نتیجہ میں بلند مقام تک پہنچے لیکن آج پارٹی نے انہیں نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ 20 اگست کے بعد اپنے حامیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دیں گے۔ انہوں نے شکایت کی کہ پارٹی کی ریاستی قیادت انہیں مسلسل نظرانداز کررہی ہے۔ کسی بھی معاملہ میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ انہیں پارٹی سے دور کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ میں آخر کتنے دنوں تک خاموش رہوں’، میں نے کیا گناہ کیا ہے جس کے لیے مجھ کو سزا دی جارہی ہے۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ کیا میں چور ہوں، روڈی ہوں، بٹے باز ہوں، ا راضیات پر قبضہ کرنے والا ہوں، کیا مجھ پر مقدمات ہیں، کیا میں جیل جاچکا ہوں؟ پھر کیوں مجھ سے اس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کھمم کی نشست کے لیے درخواست دی تھی لیکن الیکشن کمیٹی میں ان کے نام پر غور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی قائدین نے ان کا نام ہائی کمان کے پاس پیش نہیں کیا۔ رینوکا چودھری نے کہا تھا کہ اگر ہنمنت رائو کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو انہیں اعتراض نہیں۔ لیکن سنٹرل الیکشن کمیٹی کے پاس نام پیش نہیں ہوا۔ انہوں نے راہول گاندھی کے مشیر کے راجو پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل ان کے خلاف کام کررہے ہیں۔ پارٹی میں راجیو گاندھی کے قریبی افراد کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ جن قائدین کو انہوں نے سیاسی زندگی دی آج وہی ان کے خلاف اظہار خیال کررہے ہیں۔ انہوں نے دیگر پارٹیوں سے آنے والے قائدین کو اہمیت دیئے جانے کی شکایت کی اور کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے 12 ارکان اسمبلی بھی پارٹی سے منحرف ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی ان سے ملاقات کا وقت نہیں دے رہے ہیں۔ وہ اپنا دکھ درد آخر کسے سنائیں گے۔ ان کے مکتوب کو راہول گاندھی تک نہیں پہنچایا جارہا ہے۔