ہنگامی طبی خدمات سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی

   

خدمات سے انکار پر ڈاکٹرس کے لائسنس منسوخ کئے جانے کا خدشہ

حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کے لئے خدمات کی انجام دہی سے انکار کرنے والے ڈاکٹرس کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے!شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے کئی اضلاع میں خانگی دواخانوں اور سرکاری دواخانوں میں طبی عملہ اور ڈاکٹرس کی قلت کو دور کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ریاست میں موجود رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرس کی خدمات کے حصول کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ جو ان ہنگامی حالات میں خدمات کی انجام دہی سے انکار کریں گے ان کے لائسنس کی تنسیخ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ مستقبل میں پریکٹس کے اہل نہ رہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے عہدیداروں نے سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی قلت کو دور کرنے کیلئے حکومت کو جو تجاویز پیش کی ہیں ان تجاویز پر عمل آوری کے لئے محکمہ صحت کے اعلی عہدیداروں کو غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق شہر اور اضلاع میں موجود ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی خدمات کے حصول کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور کہا جارہا کہ جو ڈاکٹرس خانگی پریکٹس کر رہے ہیں ان کی خدمات سرکاری دواخانوں میں عارضی طور پر حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کیونکہ شہر حیدرآباد کے سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی قلت کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر تقررات کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جو میڈیکل پریکٹیشنرس ہیں ان کی ہنگامی حالات میں خدمات کے حصول کا قانون موجود ہے اور اس قانون کے تحت ڈاکٹرس کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے اس دور میں جن ڈاکٹرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی ان میں نوجوان ڈاکٹرس اور وہ ڈاکٹرس کو ترجیح دی جائے گی جن کی قوت مدافعت مستحکم ہے۔