ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے

   

خلیل قادری
کہتے ہیں سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ چند ماہ بلکہ چند ہفتے قبل تک یہ کہا جا رہا تھا کہ ملک میں مودی کا کوئی متبادل نہیں ہے اور انہیں کوئی ہرانا تو دور کی بات ہے ہلا بھی نہیں سکتا ۔ ملک کے ہر شعبہ پر ان کی گرفت انتہائی مضبوط ہے اور وہ عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ اب بھی ایسا ہی کچھ نظر آنے لگا ہے کہ ملک میں ہوا کا رخ بدل رہا ہے ۔ سیاسی حالات خاص طور پر بہت تیزی کے ساتھ بدلنے لگے ہیں۔ جن حلقوں میں راہول گاندھی کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور ان کی باتوںکو مذاق کا رنگ دیا جاتا تھا اب وہی حلقے اور گوشے راہول گاندھی کی وکالت کرنے لگے ہیں اور ان کی باتوں کو اب سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی اور گودی میڈیا نے ملک میں راہول گاندھی کی شبیہہ کو کمزور کرنے اور بگاڑنے کیلئے برسوں سے جو محنت کی تھی اب وہ رائیگاں جاتی نظر آ رہی ہے کیونکہ ملک میں راہول گاندھی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے ۔ لوگ اب انہیں ایک موثر اور حرکیاتی متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ان کی باتوں کی گہرائی کو سمجھا جا رہا ہے اور ان کے کاموں کو اب بتدریج اہمیت دی جا رہی ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو سیاسی قائدین راہول گاندھی کی مخالفت کو اپنا فرض اولین سمجھتے تھے اور ان کا مذاق بنایا کرتے تھے وہ بھی اب راہول گاندھی کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہونے لگے ہیں۔ کچھ تو دبے دبے الفاظ میں راہول گاندھی کے تعلق سے لب کشائی بھی شروع کرچکے ہیں اوریہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بہت جلد ملک کی ساری سیاست راہول گاندھی کے گرد ہی گھومنے لگے گی ۔ کہا تو اب بھی جاسکتا ہے کہ راہول گاندھی کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل پر ہی ملک میں بحث ہو رہی ہے ۔ کئی باتیں جو راہول گاندھی نے کہی ہیں لوگ اب ان کو قبول کرنے لگے ہیں اور ان کی اہمیت کا اندازہ کرنے لگے ہیں۔ بی جے پی اور اس کے قائدین تو پہلے ہی سے راہول فوبیا کا شکار ہیں ۔ وہ قائد اپوزیشن کی ہر بات اور ہر عمل پر رد عمل ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور ایسا کرتے بھی ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس بالکل نہیں ہو رہا ہے کہ وہ ایک جال میں پھنستے جا رہے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی راہول گاندھی کی عوامی مقبولیت میں لگاتار اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ بی جے پی کے بھی کچھ قائدین ہیں جو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ راہول گاندھی کی سیاست میں اب تبدیلی آئی ہے اور وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر باتیں کرنے لگے ہیں اور اپنے دعوے کرنے میں کسی طرح کا عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ پہلے سے یہ تاثر تو عام ہے ہی کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں اور نہ ہی نتائج کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایک راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اس پر چل پڑتے ہیں۔ یہ دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے کہ کون ان کے ساتھ آ رہا ہے اور کس نے ہاتھ چھڑا نا ہے ۔ کئی قائدین راہول گاندھی کا ساتھ چھوڑ بھی چکے ہیں اور اپنے لئے الگ راہ بھی اختیار کرلی ہے تاہم جو نظریاتی بنیادوں پر جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں وہ اب بھی ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
راہول گاندھی نے گذشتہ دنوں بنگلور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ووٹ چوری کا دعوی کیا ہے اور یہ تک کہا کہ مرکز میں مودی حکومت بھی ووٹ چوری کی وجہ سے اقتدار پر فائز ہوئی ہے ۔ اب ملک بھر میں یہ بات موضوع بحث بن گئی ہے ۔ حالانکہ راہول گاندھی نے صرف ایک اسمبلی حلقہ کے اعداد و شمار پیش کئے اور اپنے طور پر ثبوت و شواہد کو بھی انہوں نے آشکار کردیا ہے جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی صفوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ بے چینی اقتدار کے گلیاروں میں بھی محسوس ہونے لگی ہے ۔ لوگ اس تعلق سے بات کرنے لگے ہیں اور اس پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کھل کر اس طرح کے الزامات پر کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہے اور وہ حیلے بہانے کرتے ہوئے خود کا دفاع کرنا چاہتا ہے جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتا ۔ راہول گاندھی نے ایک الزام عائد کیا اور اپنے الفاظ میں انہوں نے ثبوت بھی فراہم کردیا ہے تو الیکشن کمیشن کو اس پر تحقیقات کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لانا چاہئے ۔ تاہم الیکشن کمیشن ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ راہول گاندھی سے حلفنامہ مانگ رہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حلفنامہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور جو حلفنامہ طلب کیا جا رہا ہے وہ قانون اس طرح کے الزامات پر لاگو ہی نہیں ہوتا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی ترجمان کی طرح بیان بازی کی ہے اور راہول گاندھی کے عائد کردہ الزامات کو بغیر کسی تحقیق کے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ ان کی پریس کانفرنس نے سارے ملک میں کمیشن کے تعلق سے رائے عامہ تبدیل کردی ہے ۔ ووٹ چوری کے معاملے میں زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی سب سے زیادہ چراغ پا ہوگئی ہے اور الیکشن کمیشن کے دفاع میں وہ خود میدان میں کود پڑی ہے ۔ آو دیکھا نہ تاؤ کے انداز میں بی جے پی الیکشن کمیشن کو بچانا چاہتی ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ کمیشن کے ذریعہ اس کی پول نہ کھل جائے ۔ اسی کوشش میں بی جے پی خود اور الیکشن کو بھی پھانسنے کا ذریعہ بن رہی ہے ۔ گاندھی خاندان کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرنے شہرت رکھنے والے سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کہیں سے اچانک میدان میں کو د پڑے اور انہوں نے چھ پارلیمانی حلقوں میں فرضی ووٹرس موجود رہنے کا دعوی کیا ۔ یہ تمام حلقہ وہ ہیں جہاں سے راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی یا اپوزیشن کے دوسرے قائدین نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ گاندھی خاندان کو نشانہ بنانے کی کوشش میں انوراگ ٹھاکر نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کیلئے ہی مشکل کھڑی کردی ہے ۔ جس طرح انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ان حلقہ جات لوک سبھا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں فرضی ووٹرس موجود ہیں۔ یہی بات تو راہول گاندھی اور ساری اپوزیشن جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ ووٹر لسٹ میں دھاندلیاں ہیں اور فرضی نام شامل کئے گئے ہیں۔ راہول گاندھی کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش میں انوراگ ٹھاکر نے ایک طرح سے راہول گاندھی کے الزامات کو ہی درست قرار دیدیا ہے ۔ یہاں مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جب راہول گاندھی نے فرضی و وٹرس ہونے کا دعوی کیا تو الیکشن کمیشن نے انہیں فوری نوٹس جاری کردی اورحلفنامہ طلب کرلیا تاہم انوراگ ٹھاکر نے جب اسی طرح کا دعوی کیا تو الیکشن کمیشن نے اپنے کان اور آنکھ دونوں بند کرلئے اور ان سے کسی طرح کا ثبوت یا پھر حلفنامہ طلب کرنا ضروری نہیں سمجھا ہے ۔ اس سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر بی جے پی سے ساز باز کے جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔
یہ سارا مسئلہ اب ایک طرح سے ملک بھر میں ایک تحریک کی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ ملک کے کچھ شہروں میں ووٹ چوری کے خلاف مظاہرے شروع بھی ہوچکے ہیں اور چونکہ انڈیا اتحاد کی جانب سے 17 اگسٹ سے بہار میں ووٹ ادھیکار یاترا شروع ہوگئی ہے اور اب یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس کا اثر ملک کی دوسری ریاستوں پر بھی پڑسکتا ہے ۔ ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی سیاسی جماعتیں ہوں یا پھر سماجی تنظیمیں ہوں یا خود عوام ہی کیوں نہ ہوں وہ بھی سڑکوں پر اتر سکتے ہیں اور اپنے ووٹ کی حفاظت کے تعلق سے مہم شروع کرسکتے ہیں۔ تاہم ملک کے عوام اب ان اینکرس اور اس گودی میڈیا کی روش اور ان کی حرکتوں سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں اور اس کا اثر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سوشیل میڈیا کی طاقت نے دنیا بھر میں ایک طرح سے ہلچل مچا رکھی ہے اور یہی سوشیل میڈیا اور کچھ ذمہ دار چینلس اس معاملے میں دیانتدارانہ رول ادا کرتے ہوئے گودی میڈیا کی ساری محنت کو زائل لرنے میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ وہ حقیقی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مسئلہ کی سنگینی ‘ الیکشن کمیشن کے مشتبہ رول ‘ اور بی جے پی سے ساز باز کو آشکار کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گودی میڈیا کے پروپگنڈے اور ہتھکنڈے اب زیادہ اثر انداز نہیں ہو رہے ہیں اور لوگ سوشیل میڈیا پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ انہیں کسی بھی گمراہ کن مہم کی پرواہ نہیں رہ گئی ہے اور وہ تمام حقائق اور تفصیلات کاخود مشاہدہ کرنے لگے ہیں۔ بحیثیت مجموعی سیاسی اور اقتدار کے گلیاروں میں ایک طرح کی بے چینی ہے اور لوگ کسی بڑی تبدیلی کے منتظر دکھائی دے رہے ہیں۔ شائد اسی لئے کسی شاعر نے کہا تھا کہ
چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے
ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے