ہوا کے معیار کی نگرانی کے موثر نظام کی کمی دور کرنے کی کوشش

   

حیدرآباد کا 55 فیصد علاقہ معیار کے دائرہ سے باہر
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : نیشنل ایر کوالیٹی پروگرام ہوا کے معیار کی نگرانی کے موثر نظام کی کمی کے ہدف کو پورا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ دس کنیٹینوٹس ایمبئینٹ ایر کوالیٹی مانٹیرنگ اسٹیشنس کے قیام کے باوجود دارالحکومت کا 55 فیصد علاقہ ہوا کے معیار کی نگرانی کے دائرے میں نہیں ہے ۔ اس سے اخراج کی شناخت اور اسے کم کرنے میں مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ بڑے شہروں میں ہوا کے معیار کا جائزہ لینے والے سینئیر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ نے بھی اپنی تازہ تحقیق میں یہی بات ظاہر کی۔ سی پی سی بی کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق آبادی کی بنیاد پر اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ گریٹر میں 30 سی اے اے کیو ایم ایس مراکز کی ضرورت ہے ۔ فضائی آلودگی کے اہم عوامل سلفر ڈائی آکسائیڈ ، نائٹروجن آکسائیڈ ، اوزون ، کاربن ڈائی آکسائیڈ ، پی ایم 2.5 ، اور پی ایم 10 ہیں ۔ ان کا کام ہوا میں ان کی سطح کی پیمائش کرنا ہے ۔ ان مراکز پر نصب سنیٹر ایک دن میں خارج ہونے والے اخراج کی سطح کو ریکارِڈ کرتے ہیں ۔ ہوا کا معیار کتنا بگڑ چکا ہے یہ تفصیلات ریاست اور مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کو وقتا فوقتا بھیجی جاتی ہیں ۔ این جی ٹی کے سخت موقف اختیار کرنے کے بعد پی سی بی نے 2022 میں 6 مراکز قائم کئے تھے ۔ اس سے پہلے ایچ سی یو صنعت نگر ، اکریساٹ ، پٹن چیرو اور زو پارک کے قریب موجود تھے ۔ چونکہ یہ دو سے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں ہوا کے معیار کی پیمائش کرتے ہیں ۔ اس لیے دیگر علاقوں کی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا جارہا ہے ۔ حالانکہ ان کو دارالحکومت کے قریب پاشا میلارم ، بولارم ، آئی آئی ٹی ایچ میں قائم کیا گیا ہے ۔ لیکن مضافاتی علاقوں میں صورتحال کا پوری طرح سے اندازہ نہیں لگایا جارہا ہے ۔ مسلسل ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں کے علاوہ اسٹیمٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے روایتی طریقے سے اخراج کی پیمائش کرنے کے لیے شہر میں کئی مقامات پر اسٹیٹ ایمبئینٹ ایر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کئے ہیں ۔ ان کے ذریعے اخراج کے نمونے جمع کرنے میں دو دن لگتے ہیں اور انہیں لیبارٹری بھیجنے اور نتائج کا تجزیہ کرنے میں کچھ اور وقت ضائع ہوتا ہے ۔ اگر مسلسل نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں کی تعداد کو بڑھایا جائے تو ہر دس منٹ پر پیمائش کرتے ہوئے آلودگی کے اخراج پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ آبادی : 1.5 کروڑ ، گاڑیاں : 85 لاکھ ، صنعتیں : 5 ہزار ، سالانہ تعمیر : 6 ہزار ۔ 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیاں 3 لاکھ سے زائد موجود ہیں ۔۔ ش